ایک اور لاپتہ مل گیا

سپریم کورٹ آف پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ نے خفیہ اداروں کو ان افراد کی ہلاکت کے بعد نوٹس جاری کیے ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے جن چار افراد کی ہلاکت کا نوٹس لیا ہے ان میں عبدالصبور بھی شامل تھے۔ خفیہ اداروں کی تحویل میں لیے گئے عبدالصبور لی لاش ان کی ورثاء کو مل تو گئی لیکن کس حال میں۔ اسی تناظر میں بی بی سی اردو سروس نے ان کے بھائی مفتی عبدالباعث سے بات کی اور پوچھا کہ انہیں اپنے بھائی کی لاش کیسے اور کب ملی۔

انہوں نے بتایا کہ بیس جنوری سن دو ہزار بارہ کو جمعہ کا دن تھا، جب عصر کی نماز کے بعد انہیں چار بجے ایک فون آیا، جس میں بغیر سلام دعا کے ایک نمبر لکھنے کے لیے کہا گیا۔ ’میں نے نمبر لکھ لیا۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ آپ کے بھائی کی حالت ٹھیک نہیں ہے ہم ان کو پشاور لے کر جا رہے ہیں۔‘

عبدالباعث نے بتایا کہ انہوں نے اس نمبر پر فون کیا تو بتایا گیا کہ ان کے بھائی فوت ہو چکے ہیں۔ انہیں پھر لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچنے کے لیے کہا گیا۔

ہسپتال میں انہیں بہت چکر لگوانے کے بعد ایک آدمی ملا جس نے انہیں بتایا کہ آپ ان کے چکر میں نہ آئیں اور ایک جگہ کھڑے رہیں۔’اس شخص نے کہا کہ ان کا یہ معمول ہے، آپ کھڑے رہیں آپ کو فون آ جائے گا۔‘

عبدالباعث نے بتایا کہ ’ہم وہاں کھڑے تھے تو ایک فون آیا کہ حاجی کیمپ کے قریب ایک ایمبولنس کھڑی ہے جس میں ہمارے بھائی کی لاش موجود ہے۔ ہم حاجی کیمپ کی طرف گئے تو وہاں کاکاخیل نامی ایک سی این جی سٹیشن کے قریب ایک ایمبولنس کھڑی تھی جس میں ہمارے بھائی کی لاش تھی۔ وہاں ایمبولنس کے ڈرائیور اور کنڈیکٹر کے علاوہ کوئی دوسرا موجود نہیں تھا۔ہم نے لاش وصول کی اور اپنے گاؤں کی طرف چلے گئے۔‘

عبدالباعث نے کہا کہ ایمبولنس کے ڈرائیور نے ان کے پوچھنے پر بتایا کہ وہ لیڈنگ ریڈنگ ہسپتال میں موجود تھے جہاں ان کا کام پرائیویٹ طور پر مریضوں کو لے کر جانا ہے۔ ڈرائیور نے بتایا کہ چند لوگ ان کے پاس آئے اور ایک لاش کو لاہور لے جانے کے لیے کہا۔

ڈرائیور نے انہیں بتایا کہ مذکورہ لوگوں نے ایمبولنس کو یہاں روکا جہاں پھر ایک ’فوجی ڈالا‘(بڑی جیپ) آیا جس میں لاش تھی۔ ڈرائیور نے مفتی عبدالباعث کو بتایا کہ انہوں نے لاش اس گاڑی میں سے نکال کر ایمبولنس میں رکھی اور روانہ ہونے لگے۔

’جب وہ جانے لگے تو ڈرائیور نے ان لوگوں کو روکنے کی کوشش کی کہ اس لاش کے ورثاء کو آ جانے دو نہیں تو وہ جھگڑا کریں گے، مگر وہ لوگ ہمارے آنے پر وہاں سے بھاگ گئے۔‘

مفتی عبدالباعث نے بتایا کہ انہیں ایک فائل دی گئی جس میں کچھ پرچیاں تھیں اور ایک ڈیتھ سرٹیفیکیٹ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پرچیوں کی تاریخ بیس دسمبر سے ستائیس دسمبر دو ہزار گیارہ تھی۔

انہوں نے بتایا کہ لاش انتہائی ٹھنڈی تھی جس سے معلوم ہو رہا تھا کہ یہ بیس پچیس روز پہلے کی ہے اور اس کو سرد خانے سے لایا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جو زخمی نہیں تھا یا جسے تکلیف نہ پہنچی ہو۔

’اس کی گردن پر اتنے نشانات تھے جیسے کسی نے انجیکشن لگائے ہوں، پوری کمر خون سے بھری تھی، خون باہر نہیں نکلا تھا لیکن چمڑے کے نیچے ٹوٹل خون تھا۔‘

اسی بارے میں