’لاپتہ افراد کوعدالت میں پیش کیا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت کے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ ان افراد کو صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا ہے، چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی یعنی انٹرسروسز انٹیلیجنس اور ملٹری انٹیلیجنس کو اڈیالہ جیل سے لاپتہ ہونے والے گیارہ افراد کو نو فروری کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

ان اداروں کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان میں سے چار افراد پُراسرار بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان افراد سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کی تو آئی ایس آئی اور ایم آئی کے وکیل راجہ ارشاد نے عدالت کو بتایا کہ سات افراد کو صوبہ خیبر پختون خوا کی حکومت کے حوالے کرد یا گیا ہے جبکہ چار افراد پراسرار بیماری کی وجہ سے پشاور کے ایک ہستپال میں ہلاک ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ ان افراد کو صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا ہے۔

انہوں نے فوج کے خفیہ اداروں کی نمائندگی کرنے والے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’ آپ ہی ان افراد کو لیکر گئے تھے اور آپ ہی ان افراد کو عدالت کے سامنے پیش کریں‘۔

خفیہ ایجنسیوں کے وکیل کا کہنا تھا کہ انہیں ایک روز قبل ہی وکیل مقرر کیا گیا ہے لہذا انہیں جواب دینے کے لیے وقت دیا جائے۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ راجہ ارشاد کا کہنا تھا کہ ان گیارہ میں سے چار افراد پراسرار بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوئے جبکہ چار افراد شدید بیمار ہونے کی وجہ سے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور باقی تین افراد پاراچنار میں واقع ایک تفتیشی مرکز پر ہیں جہاں پر اُن سے تفتیش جاری ہے۔

یاد رہے کہ سنہ دوہزار نو میں راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں نے مختلف مقدمات میں گرفتار ہونے والے گیارہ افراد کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کر دیا تھا تاہم اطلاعات کے مطابق اڈیالہ جیل سے رہائی کے فوری بعد ان افراد کو خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

اکتوبر سنہ دوہزار دس میں سپریم کورٹ کی مداخلت پر فوج کے وکیل راجہ ارشار نے عدالت کو بتایا تھا کہ یہ افراد ان کی تحویل میں ہیں کیونکہ یہ افراد فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین قانون سے بڑا ہوتا ہے کیونکہ آئین ہی لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم عدالت میں پیش ہوسکتے ہیں تو دیگر اعلٰی عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد اس سے مُبرا نہیں ہیں۔

درخواست گزار طارق اسد کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے چار افراد کو بھوکا رکھا اور انہیں تشدد کر کے ہلاک کیا لیکن کوئی اس کی ذمہ داری قبول نہیں کر رہا جس پر آئی ایس آئی کے وکیل راجہ ارشاد کا کہنا تھا کہ اس بیان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے راجہ ارشاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ سماعت پر اس بات کی وضاحت کریں کہ چار افراد کس طرح ہلاک ہوئے۔

عدالت نے پشاور کے ہسپتال میں زیرِعلاج چار افراد کو ان کے رشتہ داروں سے ملنے کی اجازت دے دی۔

سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہرمیڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ارشاد نے کہا کہ وہ آئندہ سماعت پر عدالت کو بتائیں گے کہ ان افراد کے خلاف فوجی قوانین کے تحت کارروائی ہوئی ہے کہ نہیں۔

اسی بارے میں