ایف سی چوکیوں پر حملے، بارہ اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بلوچ مزاحمت کاروں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے

بلوچستان کے علاقے مارگٹ میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے تین ایف سی چوکیوں پر حملے کے نتیجے میں سرکاری ذرائع کے مطابق کم از کم بارہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب کوئٹہ سے ساٹھ کلومیٹر دور مچھ کے علاقے مارگٹ میں نامعلوم مسلح افراد نے فرنٹئیرکور کی تین چوکیوں پر حملے کیے۔

کوئٹہ میں ایف سی حکام کے مطابق ان حملوں میں بارہ اہلکار ہلاک اور تیرہ زخمی ہوگئے جبکہ ایف سی کی چوکیوں کو شدید نقصان پہنچا۔

سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ زخمیوں کو فوری طور پر علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

ان حملوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان مرک بلوچ نے قبول کر لی ہے۔مرک بلوچ نے پینتیس سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعوٰی بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی کراچی میں منگل کو بلوچستان اسمبلی کے رکن صاحبزادہ بختیار ڈومکی کی اہلیہ اور بیٹی کے قتل کا ردِ عمل ہے۔بختیار ڈومکی بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ نواب اکبر بگٹی کے نواسے ہیں اور ان کی اہلیہ نواب اکبر بگٹی کی پوتی تھیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ ماہ کی چھبیس تاریخ کو بھی سوئی میں ایف سی کی چیک پوسٹ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں فرنٹئیر کور کے پانچ اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ سولہ جنوری کو تربت میں نامعلوم مسلح افراد نے فرنٹیئرکور کے ایک قافلے پر بموں سے حملہ کیا تھا جس میں ایف سی کے دو افسروں سمیت چودہ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں