بینظیر قتل: نئے مقدمے کی درخواست پر جواب طلب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بینظیر بھٹو ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو راولپنڈی میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئی تھیں

سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے نئے مقدمے کے اندراج کے لیے دائر کی جانے والی درخواست پر بارہ افراد سے دو ہفتوں میں تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔

ان افراد میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے علاوہ سینیئر وفاقی وزیر چوہدری پرویز الہی، وزیر داخلہ رحمان ملک، حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے نائب صدر بابر اعوان، سابق وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل حامد نواز، سابق سیکرٹری داخلہ کمال شاہ، انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ اعجاز شاہ، نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ جاوید اقبال، سابق ڈی آئی جی راولپنڈی سعود عزیز، ضلعی رابطہ افسر عرفان الہی، ایس ایس پی آپریشنز یاسین فاروق اور ایس ایس پی خرم شہزاد شامل ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کو بینظیر بھٹو کے سابق پروٹوکول افسر چوہدری اسلم کی درخواست کی سماعت شروع کی تو چیف جسٹس نے صدر آصف علی زرداری کے بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر بیان کا حوالہ دیا جس میں اُنہوں نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کا کیا بنا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور معلوم نہیں کہ حکومت اس کو ترجیح کیوں نہیں دیتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کچھ غلط ہوا ہے تو اُس کو غلط کہنا چاہیے۔

بینچ میں موجود جسٹس طارق پرویز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کسی قانونی وارث کی طرف سے بینظیر بھٹو کے قتل کا مقدمہ درج نہیں کروایا گیا جبکہ اس واقعہ کا جو مقدمہ درج ہے وہ سرکار کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔

اس مقدمے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو گزشتہ چار سال سے اڈیالہ جیل میں ہیں اور اُن افراد پر فرد جُرم بھی عائد کی جا چکی ہے۔

یاد رہے کہ درخواست گُزار چوہدری اسلم نے مذکورہ افراد کے خلاف بینظیر کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جو مسترد کردی گئی اور اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جو منظور کرلی گئی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے اور اس درخواست میں بنائے گئے فریق سے تفصیلی جواب کے بعد لارجر بینچ تشکیل دیا جائے گا۔

عدالت نے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے اس مقدمے کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں اشتہاری قرار دیا ہے جبکہ ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خُرم شہزاد ان دنوں ضمانت پر ہیں۔

درخواست گُزار چوہدری اسلم کے وکیل رشید اے رضوی نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے اور ستائیس دسمبر سنہ دو ہزار سات کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر جب بینظیر بھٹو پر خودکش حملہ ہوا تو اُن کی گاڑی کے پیچھے جو گاڑی تھی وہ اچانک وہاں سے کیوں غائب ہوگئی۔

اُنہوں نے کہا کہ اس گاڑی میں وزیر داخلہ رحمان ملک جو اُس وقت بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کے انچارج تھے، سوار تھے اس کے علاوہ بابر اعوان بھی موجود تھے۔

رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس واقعہ کی تحقیقات میں تاخیر کی گئی ہے لیکن کسی بیگناہ کو سزا دینے سے بہتر ہے کہ گناہ گاروں کو سزا دی جائے۔

اسی بارے میں