حسین حقانی بیرونِ ملک روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حسین حقانی اپنا ابتدائی بیان کمیشن کے سامنے ریکارڈ کروا چکے ہیں جبکہ منصور اعجاز کے پاس نو فروری تک کی مہلت ہے۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور متنازع میمو کے اہم کردار حسین حقانی منگل کو بیرونِ ملک روانہ ہو گئے ہیں۔

انہیں سخت سیکیورٹی انتظامات میں وزیرِاعظم ہاؤس سے بے نظیر انٹرنیشنل ائیرپورٹ لایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق حسین حقانی نے روانگی سے پہلے عدالتِ عظمٰی کے رجسٹرار کو اپنے دورے سے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔حسین حقانی دبئی میں چند روز قیام کے بعد امریکہ روانہ ہونگے جہاں ان کے اہلِ خانہ پہلے ہی موجود ہیں۔

اس متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کا آئندہ اجلاس نو فروری کو ہوگا جس میں امریکی شہری منصور اعجاز کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا آخری موقع دیا گیا ہے۔

حسین حقانی اس کمیشن کے سامنے اپنا ابتدائی بیان پہلے ہی ریکارڈ کروا چکے ہیں اور ماہرین کے مطابق اگلے ایک ماہ تک اس بات کا امکان نہیں کہ حسین حقانی کمیشن کے سامنے پیش ہوں اس لیے وہ زیادہ تر وقت امریکہ میں گزاریں گے۔

اطلاعات کے مطابق حسین حقانی کا سفارتی پاسپورٹ واپس لے لیا گیا ہے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے متنازع میمو کیس کی تحقیقات کے لیے بنائے جانے والے تین رکنی کمیشن کی مدت میں دو ماہ کی توسیع کر دی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ سپریم کورٹ نے امریکی شہری منصور اعجاز کو سیکورٹی خدشات کے پیش نظر ان کا بیان بیرونِ ملک ریکارڈ کرنے سے متعلق دائر کی جانے والی درخواست مسترد کر دی تھی اور انہیں کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا آخری موقع دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں