مفت ادویات،سپریم کورٹ کا گرفتار افراد کو رہا کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جعلی ادویات سے ہونے والی ہلاکتوں کے ضمن میں درج کیےگئے مقدمات میں گرفتار افراد کو شخصی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے صوبائی حکومت سے اس واقعہ کی تحقیقات سے متعلق چھ فروری تک تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔

عدالت نے اپنےحکم میں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل عدالتی کمیشن کو کام جاری رکھنے کا کہا ہے۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نےمنگل کے روز مفت ادویات سے ہلاکتوں سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔ پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب انٹسیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں دل کے مریضوں کو دی جانے والی جن ادویات نے ری ایکشن کیا ہے اُن کے نمونے بیلجیم، لندن اور سوئٹزرلینڈ بھجوائےگئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ان نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد معلوم ہوسکے گا کہ ان ادویات کے ری ایکشن سے ہلاکتوں کی اصل وجوہات کیا ہے۔

اُنہوں نے عدالت کو وزیر اعلیٰ معائنہ کمیٹی کی رپورٹ کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ اس کی فورنسک لیبارٹری کی تحقیقات کی رپورٹ بھی ابھی آنی ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس ثاقب نتار نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ پنجاب کا صحت کا وزیر کون ہے؟ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عداللت کو بتایا کہ یہ شعبہ وزیر اعلی شہباز شریف کے پاس ہے۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کیا ابھی تک ان ہلاکتوں کی ذمہ داری کسی پر عائد کی گئی ہے جس پر اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر ابھی تک کسی پر ذمہ داری عائد نہیں کی گئی تو پھر اس واقعہ میں تین افراد کو گرفتار کیوں کیا گیا۔

ایف آئی اے کے اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ڈرگ انسپکٹر کی نشاندہی پر ادویات بنانے والی کمپنیوں کے تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ جبکہ ابھی تک کسی پر ذمہ داری عائد نہیں کی گئی تو پھر ان افراد کو حراست میں کیوں لیا گیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے جن افراد کے پاس ادویات بنانے کا لائسنس ہے اُنہیں فوری شخصی ضمانت پر رہا کیا جائے۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ان ہلاکتوں سے متعلق مقامی تھانے میں قتلِ خطا کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن ابھی تک اس ضمن میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

ایف آئی اے اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ اُنہوں نے ان واقعات سے متعلق تین مختلف افراد کے خلاف مقدمات درج کیے اور جب وہ ریکارڈ لینے کے لیے گئے تو وزیر اعلی پنجاب کی ٹیم نے اس ریکارڈ کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے جس کی وجہ سے ان مقدمات میں پیش رفت مشکل دیکھائی دے رہی ہے۔

اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے عدالت کو بتایا کہ ڈرگ انفورسمنٹ ایکٹ وفاقی معاملہ ہے اور جب تک صوبائی حکومت کوئی قانون سازی نہیں کرتی اُس وقت تک یہ ایکٹ موثر رہے گا۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر ایف آئی اے اور وزیر اعلی کی معائنہ ٹیم سے تمام تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

یاد رہے کہ ان ادویات کے ری ایکشن میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔