’پہلے خط لکھیں پھر استثنیٰ کی بات کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے اعتزاز احسن کو پہلے صدر کے استثنٰی پر دلائل دینے کی ہدایت کی ہے

وزیراعظم پاکستان کے خلاف توہینِ عدالت کے نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس ناصرالملک نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ حکومت سوئس حکام کوخط لکھنے کے بعد صدر کے استثنٰی کی بات کرے۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر توہینِ عدالت کا نوٹس واپس لے بھی لیا جائے تب بھی سوئس حکام کو خط لکھنا پڑے گا کیونکہ اس معاملے میں سترہ رکنی بینچ کا فیصلہ واضح ہے جس میں این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت ختم کیے جانے والے مقدمات کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں کہاگیا ہے۔

وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اگر صدر کا استثنیٰ ثابت نہ بھی ہو تو پھر بھی وزیر اعظم پرتوہین عدالت کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ اُنہوں نے وہی کام کیا جو آئین میں درج ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ عدالت میں صدر کو نہیں بلکہ وزیر اعظم کا دفاع کر رہے ہیں۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ یہ ثابت کریں گے کہ ان کے مؤکل وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف فوجداری کارروائی ہو رہی ہے اور یہ خط لکھنے کی بات نہیں ہے۔

عدالت نے وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مطمئن کردیں گے کہ اُن کے موکل نے سوئس حکام کو خط نہ لکھ کر جو کام کیا وہ ٹھیک تھا تو وزیر اعظم کو توہین عدالت کے مقدمے میں جاری کیا گیا اظہار وجوہ کا نوٹس واپس لے لیا جائے گا ورنہ اُن پر توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جُرم عائد کی جائے گی۔

بدھ کو جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت دوبارہ شروع کی تو وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ خط لکھنے کے معاملے پر وزیرِ اعظم نے وزارتِ قانون کی ایڈوائس پر عملدرآمد کیا جس میں کہا گیا کہ صدر کو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اس لیے وزیر اعظم کا یہ اقدام توہین عدالت کے ذُمرے میں نہیں آتا اور ان کا یہ اقدام نیک نیتی پر مبنی ہے۔

بینچ میں شامل آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ آئین کے ارٹیکل ایک سو نواسی اور ایک سو نوے کے تحت تمام ادارے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں اور این آر او سے متعلق سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ کا حکم واضح ہے۔

اعتزازاحسن کا کہنا تھا کہ این آر او عمل درآمد کیس میں جو چھ تجاویز دی تھیں اُن میں خود عدالت یہ کلیئر نہیں تھی کہ کونسا پوائنٹ آف ایکشن لیا بجائے جس پر بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ اگر عدالت چاہتی تو ان چھ تجاویز پر عمل درآمد سے متعلق بھی احکامات جاری کر سکتی تھی۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے بارے میں اٹارنی جنرل نے بیان دیا تھا کہ وزیر اعظم کو ان تجاویز اور عدالتی فیصلے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ حکومت این آر او عملدرآمد کیس میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ کا فیصلہ نہیں مان رہی البتہ سیکرٹری قانون کی بات کو وزن دے رہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ عدالت میں ابھی تک وہ سمری بھی پیش نہیں کی جو وزارت قانون نے وزیر اعظم کو بھجوائی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے۔ اس پر اعتراز احسن کا کہنا تھا کہ وہ صدر کے معاملے کی بات نہیں کر رہے بلکہ وزیرِ اعظم کے خلاف توہینِ عدالت کی جو کارروائی ہو رہی ہے اس پر بات کر رہا ہوں جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سماعت کے دوران آپ سے کہا تھا کہ پہلے استثنیٰ پر بات کریں تو پھر معاملہ آگے چلے گا۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ یہ ثابت کریں گے کہ ان کے موکل وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف فوجداری کارروائی ہو رہی ہے اور یہ خط لکھنے کی بات نہیں ہے۔

ناصر المک نے کہا کہ آپ کے موکل نے بارہا کہا ہے کہ صدر کو آئین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اس لیے وہ سوئس حکام کو خط نہیں لکھیں گے جس پر اعتراز احسن کا کہنا تھا کہ عملدرآمد ایک مختلف معاملہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے گزشتہ سماعت پر وزیر اعظم گیلانی کو حاضری سے مستثنٰی قرار دے دیا تھا

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ مختلف نہیں ہے بلکہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

عدالت نے اعتزاز احسن کو جمعرات تک اپنے ابتدائی دلائل مکمل کرنے کے بارے میں کہا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پاکستان کے منتخب صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف نوے کی دہائی میں درج ہونے والے کرپشن کے مقدمات کو دوبارہ کھلوانے کے لیے سوئٹزرلینڈ کے حکام کو خط نہ لکھنے پر وزیر اعظم گیلانی کو یہ نوٹس جاری کیا تھا کہ کیوں ان کے خلاف توہین عدالت کے قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔

وزیراعظم گیلانی نے پچھلی شنوائی پر عدالت کے روبرو پیش ہوکر بیان دیا تھا کہ حکومت عدالتوں کا احترام کرتی ہے لیکن پاکستان کا آئین بالادست ہے اور اس کے تحت صدر پاکستان کو استثنی حاصل ہے۔

عدالت نے گزشتہ سماعت پر وزیر اعظم گیلانی کو حاضری سے مستثنٰی قرار دے دیا تھا۔

اسی بارے میں