’متاثرینِ سیلاب کی زندگیاں خطرے میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پچیس لاکھ افراد پینے کے پانی اور نکاسیِ آب کی سہولتوں کے فقدان کا سامنا کر رہے ہیں: کمیشن کی رپورٹ

ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی اور صحت کی بنیادی سہولتوں کے ناقص انتظامات کی وجہ سے سیلاب کے متاثرین کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں۔

یہ رپورٹ پیپلز اکاؤنٹیبلٹی کمیشن آف فلڈز نے جاری کی ہے جو رضاکاروں کا ایک نیٹ ورک ہے اور مختلف اضلاع میں سیلاب کے متاثرین کے لیے کام کرتا ہے۔

کمیشن کے رضاکاروں رمضان میمن، عبدالوحید پنہوراور دیگر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کے ستاسی فیصد ذخائر استعمال کے قابل نہیں رہے۔ پچیس لاکھ افراد پینے کے پانی اور نکاسی آب کی سہولتوں کے فقدان کا سامنا کر رہے ہیں۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ کمیشن نے لوگوں کو بہبود اور بہتر سہولیات مہیا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

’حکومت اور دیگر ترقیاتی ادارے متاثرین کی کوئی خاطر خواہ مدد نہیں کر پائے۔ اس ضمن میں صرف پندرہ فیصد ہی کام ہوا ہے۔ جبکہ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں بدین، تھرپارکر، سانگھڑ، ٹنڈوالہ یار، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد اور عمرکوٹ شامل ہیں۔‘

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جو متاثرہ افراد کیمپوں سے گھروں کی طرف لوٹ گئے ہیں، ان کے گھروں کی مرمت یا تعمیر نہیں ہوسکی ہے۔ کمیشن نے مطالبہ کیا کہ ان کے گھروں کے لیے نکاسی آب اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے نظام کا بغور جائزہ لیا جائے اور ان کی از سر نو تعمیر کی جائے۔

کمیشن نے گزشتہ اکتیس دسمبر کو ریلیف کارروایاں بند کر کے متاثرین کی ابتدائی بحالی کے منصوبے کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس ابتدائی بحالی کے منصوبے پر بھی اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

کمیشن نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ سندھ میں آبادی کے ساتھ ساتھ مسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے مگر رواں مالی سال کے بجٹ میں پینے کے پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی سہولتوں کے لیے صرف سینتالیس کروڑ پچاس لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ کے متعین کردہ ملین ڈویلپمنٹ گولز کے تحت حکومت کو ان منصوبوں کے لیے چار ارب اسّی کروڑ روپے مختص کرنے چاہیے تھے۔

کمیشن کے رضاکاروں کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ نکاسی آب کے منصوبوں میں پانی کا اخراج دریا، جھیلوں، تالابوں اور پانی کے دوسرے قدرتی ذخیروں میں نہ کیا جائے، اس سلسلے میں بین الاقوامی معیار کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔

کمیشن نے حکومت کو یہ بھی تجویز پیش کی کہ پانی کو آلودگی سے بچانے کے لیے پانی کے ذخائر، بیت الخلاء، نکاسیِ آب کا نظام اور پانی کی فراہمی کی سکیموں میں کم سے کم ساٹھ میٹر کا فاصلہ رکھا جائے۔

کمیشن نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت کی جانب سے متاثرین کی بحالی کے مرحلے میں مدد کے لیے اقوامِ متحدہ سے نظر ثانی کی اپیل نہیں کی گئی ہے۔ رضاکاروں کے مطابق اس سے پہلے جو اپیل کی گئی اس کا بھی صرف نصف بطور امداد ملا تھا اس طرح ایک خلاء پہلے ہی موجود تھا اب حکومت نظر ثانی کی اپیل کرنے میں تاخیر کر رہی ہے۔

اسی بارے میں