’بھرپور آپریشن نہ ہونے سے ہلاکتیں زیادہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کرم ایجنسی میں فوجی آپریشن ازمری غڑو چودہ نومبر سن دو ہزار گیارہ میں شروع کیا گیا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن میں حکام کے مطابق ڈھائی ماہ میں اب تک پانچ فوجی افسروں سمیت ستر اہلکار ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں اور مبصرین کی نظر میں اتنی زیادہ ہلاکتوں کی وجہ اس علاقے میں بھرپور طریقے سے آپریشن نہ کیا جانا ہے۔

اس علاقے سے شدت پسندوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہتی ہیں لیکن ان کی کوئی باقاعدہ تصدیق شدہ تعداد سامنے نہیں آئی ہے تاہم بعض ذرائع کے مطابق سینکڑوں شدت پسند اب تک اس آپریشن میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

عسکری امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد کا کہنا ہے کہ ’بعض وجوہات کی بنا پر فوج یا حکومت اس علاقے میں بھر پور انداز سے آپریشن نہیں کر رہی‘ اور یہی اس علاقے میں فوجیوں کی زیادہ ہلاکتوں کی وجہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’عموماً جو اطلاعات موصول ہوتی ہیں وہ یہی ہوتی ہیں کہ شدت پسند سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں جس کے بعد اہلکار جوابی کارروائی کرتے ہیں اسی لیے سکیورٹی فورسز کا نقصان بھی زیادہ ہوتا ہے‘۔

وادیِ کرم یا کرم ایجنسی میں ایک جانب فوجی آپریشن جاری ہے تو دوسری جانب ان علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں جس سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

بریگیڈیئر (ر) سعد کا یہ بھی کہنا تھا کہ کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ کشیدگی تو پہلے بھی پائی جاتی تھی لیکن افغان جنگ کے بعد ان علاقوں میں توازن بگڑ جانے سے حالات خراب ہوئے۔ اس کے علاوہ کرم ایجنسی کا علاقہ افغانستان کے دارالحکومت کابل سے قریب ترین ہے اس لیے اس راستے کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرم ایجنسی کا دور دراز علاقہ حکومت اور ذرائع ابلاغ کی نظروں سے اوجھل ہے اور ممکنہ طور پر یہاں کے مسائل کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

کرم ایجنسی میں فوجی آپریشن اور فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی ہوئی ہے۔ ان متاثرین کے لیے صدہ میں کیمپ لگایا گیا ہے جہاں سخت سردی میں لوگوں کے پاس کمبل اور اپنے آپ کو سردی سے بچانے کے لیے دیگر سامان کی کمی ہے۔

اس کیمپ میں موجود ایک متاثرہ نوجوان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ دو ماہ سے اس کیمپ میں ہیں، ان کے خاندان کے بیس افراد ہیں اور انھیں صرف دو کمبل دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر لوگوں کے شناختی کارڈز بلاک ہیں یا ان میں کوئی نہ کوئی نقص نکال کر ان لوگوں کو امدادی سامان نہیں دیا جاتا۔

نوجوان نے کہا کہ اس شدید سردی کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہے اس لیے یہاں قریبی لوگوں سے انھوں نے مدد لی ہے، کسی سے بستر تو کسی سے گیس کے چولہے حاصل کیے ہیں۔

کیمپ کے قریب رہائش پذیر ایک قبائلی رہنما ملک عبدالولی خان نے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا کہ ان علاقوں میں لوگوں کی اس طرح مدد نہیں کی جا رہی جس طرح سوات میں فوجی آپریشن سے متاثرہ لوگوں کی مدد کی گئی تھی۔ انھوں نے کہا متاثرہ افراد کہتے ہیں کہ انھیں آزاد کردیا جائے اور اپنے اپنے علاقوں میں واپس جانے دیا جائے۔

اسی بارے میں