تنخواہیں نہ دینے پر ٹی وی چینلز کیخلاف احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آر آئی یو جے نے ملازمین کو تنخواہیں نہ دینے والے ٹی وی چینلز کی کوریج پر پابندی عائد کردی ہے

پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے بدھ کو صحافیوں نے مختلف ٹی وی چینلز کے ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہ نہ دینے کے خلاف احتجاجی واک آوٹ کیا جبکہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ متعلقہ ٹی وی چینلز کے خلاف ’پیمرا‘ قانونی کارروائی کرے گا۔

صحافیوں کی مقامی تنظیم ’آر آئی یو جے‘ نے ملازمین کو تنخواہیں نہ دینے والے ٹی وی چینلز کی کوریج پر پابندی عائد کردی ہے اور جو ٹی وی چینلز دو دو ماہ کی تاخیر سے تنخواہیں دے رہے ہیں انہیں متنبہ کیا ہے کہ وہ بقایاجات ادا کریں ورنہ ان کی کوریج پر پابندی عائد کی جائے گی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے ٹی وی چینلز کی کوریج پر پابندی کا فیصلہ اپنی نوعیت کا انوکھا فیصلہ ہے۔

اس فیصلے پر عمل کرتے ہوئے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) کے نو منتخب صدر وقار ستی نے پارلیمان کے باہر وزیر داخلہ رحمٰن ملک کی براہ راست گفتگو کے دوران دو ٹی وی چینلوں کے مائک نیچے پھینک دیے۔

صحافیوں نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے ایک ہی وقت میں علٰیحدہ علٰیحدہ جاری اجلاسوں کی پریس گیلریز سے واک آوٹ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ متعلقہ ٹی وی چینلز کے خلاف کارروائی کریں، ارکان پارلیمان ان ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز کا بائیکاٹ کریں، حکومت ان کے اشتہارات بند کرے اور متعلقہ ٹی وی چینلز کے اشتہارات کی ادائیگی کی رقم روک دے اور ان سے تنخواہیں دی جائیں۔

بائیکاٹ کے بعد صحافیوں کو منانے کے لیے وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ، عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان اور دیگر نمائندے آئے اور بات چیت کے بعد وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے قومی اسمبلی کے فلور پر یقین دہانی کرائی کی کہ حکومت اپنا کردار ادا کرے گی اور ثالثی کر کے مسئلہ حل کرائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے ’پیمرا‘ کو وہ ہدایت کرتی ہیں کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کرے اور مسئلہ حل کرائے۔

آر آئی یو جے کے صدر وقار ستی نے کہا کہ نجی ٹی وی چینلز عقوبت خانے بنے ہوئے ہیں اور ملازمین کو تین سے چار ماہ کی تنِخواہیں ادا نہیں کر رہے اور صحافی خود کشیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صحافیوں کے احتجاج اور متعلقہ نیوز چینلز کی کوریج بند کرائے جانے کے بعد ان کی انتظامیہ نے ان سے رابطہ کیا ہے کہ وہ جلد تنخواہیں ادا کردیں گے اور ان کی کوریج پر فی الحال پابندی نہ لگائی جائے۔

تاہم وقار ستی کے بقول جب تک ادائیگی نہیں ہوگی اس وقت تک کوریج پر پابندی برقرار رہے گی۔ حکومتی یقین دہانی کے بعد صحافیوں نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا علامتی واک آؤٹ ختم کردیا۔

اسی بارے میں