’جرنیلوں کی توہینِ عدالت کا بھی نوٹس لیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت اور جمہوری اداروں میں تناؤ اور کھنچاؤ پر تشویش ہے: اعتزاز احسن

وزیراعظم پاکستان کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ پارلیمان اور عدلیہ کے باہمی تناؤ سے کوئی تیسری طاقت فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

جمعرات کو توہینِ عدالت کے معاملے میں فردِ جرم عائد کیے جانے کے لیے وزیراعظم کی طلبی کا حکم سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صرف سویلین وزیراعظم توہینِ عدالت کا مرتکب پایا جاتا ہے جبکہ گھناؤنی توہینِ عدالت میں اسٹبلشمنٹ کے اراکین اور فوجی جرنیل بھی ملوث رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پر توہینِ عدالت میں فردِ جرم عائد کیے جانے سے پہلے فیصلے کے خلاف اپیل کا آپشن اور امکان موجود ہے۔

ان کے بقول فردِ جرم عائد ہونے سے پہلے وزیراعظم کو فیصلہ کرنا ہے کہ انہیں انٹرا کورٹ اپیل کرنی ہے یا نہیں کیونکہ انہیں آئینی اور قانونی طور پر اپیل کا حق حاصل ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کو تیرہ فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے جہاں ان پر توہینِ عدالت کے معاملے میں فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالت کو اگر نوٹس لینا ہے تو ایسی توہینِ عدالت کا بھی لینا چاہیے جس میں جرنیل شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جرنیلوں نے ججوں کو صرف برخاست ہی نہیں کیا بلکہ بچوں سمیت گرفتار کیا، چیف جسٹس پاکستان کو نظر بند رکھا، تو وہ توہینِ عدالت بھی ہونی چاہیے۔

اعتزاز احسن نے یہ بھی کہا کہ جمہوری، قانونی اور آئینی اداروں کے درمیان تصادم اور کھنچاؤ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں خدشہ ظاہر کیا کہ اداروں کے کھنچاؤ سے کہیں کوئی تیسرا فائدہ نہ اٹھا لے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے لیے یہ مسئلہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا ’میں چاہتا ہوں کہ اس ملک میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی رہے اور دونوں اداروں میں کھنچاؤ اور تناؤ کا معاملہ ختم ہو کیونکہ ہماری بدقسمت تاریخ میں چار وزارئےاعظم پر توہینِ عدالت کے مرتکب ہونے کے الزامات لگ چکے ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق سزا کے بعد بھی وزیراعظم اپنے عہدے پر قائم رہ سکتے ہیں تاہم ان کو ہٹانے کا طریقہ آئین کے آرٹیکل تریسٹھ شق دو کے تحت یہ ہے کہ قومی اسمبلی کا سپیکر ریفرنس بھیجے اور یہ عمل ایک بالکل الگ عمل ہے۔

اسی بارے میں