جرم ثابت ہونے پر وزیراعظم نااہل: وکلاء

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جرم ثابت ہونے کی صورت میں وزیر اعظم نااہل ہو جاتے ہیں: اطہر من اللہ ایڈوکیٹ

آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سپریم کورٹ کی طرف سے ان پر توہین عدالت کے الزام کے تحت فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف لارجر بنچ میں اپیل کر سکتے ہیں۔

قانون دان اطہر من اللہ ایڈوکیٹ نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کو طلب کر کےیہ واضح کر دیا تھا کہ عدالت اپنے فیصلے پر عملدرآمد چاہتی ہے کیونکہ اس سے پہلے ایسا ایک تاثر پایا جاتا تھا کہ شاید سپریم کورٹ وزیر اعظم کو توہین عدالت کے مقدمے میں طلب نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے سوئس حکام کو صدر زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے سلسلے میں خط لکھ دینا چاہیے۔

اس سوال پر کہ اگر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو پھر وزیر اعظم کا کیا مقام ہوگا تو اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں وزیر اعظم نااہل ہو جاتے ہیں اور پھر سپریم کورٹ الیکشن کمیشن سے کہے گا اوران کو عہدے سے ہٹا دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مہذب معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا اور ایسی صورتحال میں تو اعلی عہدیدار خود ہی مستعفیٰ ہو جاتے ہیں۔

پاکستان بار کونسل کے نائب صدر لطیف آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا کچھ نہیں ہے کہ تیرہ تاریخ کو کوئی بڑی بات ہوگی بلکہ تیرہ تاریخ سے پہلے اگر وزیر اعظم خط نہیں لکھتے تو پھر رسمی طور پر مقدمہ شروع کیا جاتا ہے اور شہادتیں گزاری جاتی ہیں اور شہادتوں کی روشنی میں موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنی صفائی پیش کریں۔

ان سے جب پوچھا کہ اگر تیرہ تاریخ کو فرد جرم عائد کر دیا جاتا ہے تو ایسی صورتحال میں کیا ہوگا تو ان کا کہنا تھا کہ قانون اس وقت تک کسی بھی شحص کو مجرم نہیں گردانتی جب تک جرم ثابت نہیں ہو جاتا۔ اس لیے فرد جرم عائد ہو جانے کے بعد بھی یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم رہیں گے۔

اس سوال پر کہ کیا وزیر اعظم اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ہاں وہ سپریم کورٹ کے ہی لارجر بنچ میں اپیل کر سکتے ہیں جہاں تمام شواہد کے بعد اس مقدمے کے رخ کا تعین کیا جائے گا کہ آیا یہ فیصلہ برقرار رکھا جائے یا اسے ختم کیا جائے گا۔

لطیف آفریدی نے مزید کہا کہ مقدمہ چلنے کے بعد جب جرم ثابت ہوجاتا ہے اور عدالت سزا سنا دیتی ہے تو ایسی صورت میں ایسے عہدوں پر فائز افراد خود بخود نااہل ہوجاتے ہیں۔

وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن کے اس بیان پر کہ جرنیلوں کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں طلب نہیں کیا گیا صرف سویلین وزراء اعظم کو طلب کیا جاتا ہے تو ان ماہرین نے کہا کہ تاریخی حوالے سے یہ درست ہے اب تک چار وزراء اعظم کو ایسے مقدمات میں عدالت میں طلب کیا گیا ہے جبکہ ان جرنیلوں کو جنہوں نے آئین کو روندا انھیں کبھی عدالت میں نہیں بلایا گیا ۔