لکی مروت:پولیس موبائل پر حملہ، تین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع لکی مروت میں نامعلوم افراد نے پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا ہے جس میں تین اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ حملہ منگل کی نیم شب کو اس وقت کیا گیا جب پولیس اہلکار معمول کے گشت پر تھے۔

لکی مروت کے مقامی پولیس اہلکار نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ گاڑی شہباز خیل کے مقام پر واقع بلند خیل موڑ کے قریب تھی جب پہلے ایک دھماکہ ہوا اور پھر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اندھیرے کی وجہ سے حملہ آوروں کی تعداد اور ان کے حلیے کا علم نہیں ہو سکا۔ اس واقعہ میں حوالدار جان محمد ، سپاہی منور اور گاڑی کے ڈرائیور زاہد علی ہلاک ہو ئے ہیں جبکہ سپاہی اسلام الدین زخمی ہیں جنھیں لکی مروت ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔

شہباز خیل کا علاقہ پشاور سے تقریباً دو سو کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور یہ ڈیرہ اسماعیل خان جاتے ہوئے راستے میں آتا ہے ۔ اس علاقے میں پہلے بھی پولیس پر حملے ہو چکے ہیں۔

شہباز خیل کے قریب شاہ حسن خیل کے علاقے میں یکم جنوری دو ہزار دس کو والی بال میچ کے دوران ایک حملے میں ایک سو چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور یہ حملہ صوبے میں جاری دہشت گردی کے واقعات میں پیش آنے والے واقعات میں بڑے سانحوں میں شمار ہوتا ہے۔

ستمبر دو ہزار دس میں لکی مروت تھانے پر خود کش حملہ آور نے گاڑی سے حملہ کیا تھا جس میں پولیس اہلکاروں سمیت انیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں