حکومت ایجنسیوں کو کنٹرول کرے: نثار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ سے پوچھیں کہ کیا انہیں خدا بننے کی اجازت کس نے دی ہے:چوہدری نثار خان

پاکستان کی قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور قائد حزب مخالف چوہدری نثار علی خان نے ماورائے عدالت ہلاکتوں پر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کو کنٹرول کرے تاکہ وہ لوگوں کو اغوا کرکے قتل کرنے کا سلسلہ بند کریں۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کی شام گئے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کی موجودگی میں ان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہی۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ یہ چپ رہنے کا وقت نہیں ہے اور اگر کوئی خاموش رہتا ہے تو یہ گناہ کے برابر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گیارہ افراد پر مقدمات بنائےگئے وہ عدالتوں سے رہا ہوگئے لیکن انہیں انٹیلیجنس ایجنسیاں دوبارہ اٹھا کر لے گئیں اور چار کو قتل کردیا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اگر ایوان ایسی ہلاکتیں نہیں رکوا سکتا تو یہ ’سیٹیں حرام‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم کو خطرہ ہوتا ہے تو وہ ’ریاست کے اندر ریاست‘ کی باتیں کرتے ہیں لیکن عام شہریوں کی ہلاکت پر وہ کارروائی نہیں کرتے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ متعلقہ انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ کو ایوان میں بلائیں اور ان سے پوچھیں کہ کیا انہیں خدا بننے کی اجازت کس نے دی ہے۔’ کیا ان کی مائیں بہنیں نہیں ہیں۔ کیا انہیں آخرت کا خوف نہیں ہے؟‘

انہوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت انٹیلیجنس ایجنسیوں سے پوچھتی لیکن سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا ہے اور تمام اراکین کو چاہیے کہ وہ اس مقدمے کی آئندہ سماعت کے موقع پر عدالت چلیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

اپوزیشن لیڈر کی بات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور تیرہ فروری کو سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے۔ تاہم انہوں نے اپنا بیان دہرایا کہ تمام اداروں کو آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور تمام ادارے پارلیمان کو جوابدہ ہیں۔

جمعرات کو حکومت اور حزب مخالف نے اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت ایک ہفتے کے اندر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر نظر ثانی کی جائے گی۔