توہینِ عدالت:’وزیراعظم پر فردِ جرم عائد ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیراعظم انیس جنوری کو توہینِ عدالت کے معاملے میں سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو چکے ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کو تیرہ فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے جہاں ان پر توہینِ عدالت کے معاملے میں فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

عدالت نے یہ حکم جمعرات کو سماعت کے بعد اپنے مختصر فیصلے میں دیا ہے۔

جرنیلوں کی توہینِ عدالت کا بھی نوٹس لیں

این آر او عملدرآمد مقدمے میں سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے پر وزیراعظم پاکستان کو توہینِ عدالت میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا تھا جس کے بعد وہ انیس جنوری کو عدالت میں حاضر بھی ہوئے تھے جہاں انہیں مزید حاضری سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا تھا۔

جمعرات کو اس معاملے کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے وزیراعظم گیلانی کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر عدالت حکم دے گی تو سوئس حکام کو صدر زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے سلسلے میں خط لکھ دیا جائے گا جس پر عدالت نے کہا کہ یہ تو بارہا کہا جا چکا ہے کہ خط لکھا جائے لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ عدالت کی عزت بچائی جائے کیونکہ اگر یہ خط لکھا جائے اور سوئس عدالتوں میں کوئی کارروائی نہ ہو تو پھر عدالت کی عزت پر بھی فرق آئے گا جس پر بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’آپ یہ چاہتے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ کے لوگوں کے سامنے ہم بےعزت نہ ہوں جبکہ اپنے لوگوں کے سامنے بے شک بےعزت ہوتے رہیں‘۔

بینچ کے سربراہ جسٹس ناصرالملک کا کہنا تھا کہ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اگر حکومت سوئس حکام کو خط لکھتی ہے تو سوئس عدالتوں میں اس کے کیا نتائج نکلیں گے اور بہرحال سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ کا فیصلہ اس پر واضح ہے کہ این آر او سے مستفید ہونے والے افراد کے خلاف اس وقت سے مقدمات بحال کیے جائیں جب یہ لاگو ہوا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جب سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق سمری لکھی گئی تو اس وقت کے سیکرٹری قانون نے اس کو سوئٹزرلینڈ کی حکومت کو نہیں بھجوایا اور جب عدالت نے ان سے پوچھا تو انہوں نے استعفٰی دے دیا۔

بینچ کے سربراہ جسٹس ناصرالملک کا کہنا تھا کہ جو سمری لکھی گئی ہے اس میں سیکرٹری قانون نے رائے دی ہے کہ سوئس عدالتوں میں صدر آصف علی زرداری کے خلاف معاملہ ختم ہوچکا ہے اس لیے خط لکھنے کی ضرورت نہیں جبکہ وزیرِ اعظم کہہ رہے ہیں کہ صدر کو استثنٰی حاصل ہے حالانکہ سمری میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

اس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو جو سمری بھیجی گئی اس پر انہوں نے عملدرآمد کیا ہے اور اس پر وزیرِاعظم کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی نہیں بنتی، ’انہیں جو رائے دی گئی انہوں نے اس پر عمل درآمد کیا اس لیے شک کا فائدہ وزیراعظم کو ہی ملنا چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی حکومتوں اور عدلیہ کے درمیان محاذ آرائی کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے پہلے بھی دو مرتبہ وزرائےاعظم کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی جرنیل کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی نہیں کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اپیل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ان(وزیراعظم) کا ہی ہوگا:اعتزاز احسن

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ سارا معاملہ وفاقی حکومت کی جانب سے این آر او مقدمے میں پیروی نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور انہیں یہ علم نہیں تھا کہ اس معاملے میں سوئس مقدمات کو بھی لایا جائے گا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اگرچہ کہ وفاق نے این آر او کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے اسے بھی سنا جائے لیکن عدالت نے وہ درخواست مسترد کر دی۔

عدالتی فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرا اپنے موکل کو مشورہ یہی ہوگا کہ وہ اپیل کریں لیکن اپیل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ان(وزیراعظم) کا ہی ہوگا‘۔

اسی بارے میں