بلوچستان کا مسئلہ، امریکہ میں عوامی سماعت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’امریکہ کو بلوچستان میں تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں پرگہری تشویش ہے‘

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے مسئلے نے امریکہ میں اہمیت اختیار کر لی ہے اور اب امریکی کانگریس کی کمیٹی برائے امور خارجہ کی جانب سے بلوچستان پر ایک عوامی سماعت کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں امریکی ماہرین، تجزیہ کار اور انسانی حقوق کے کارکن اپنا موقف پیش کریں گے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کی کمیٹی کے ایک اعلامیے کے مطابق، آٹھ فروری کو واشنگٹن ڈی سی میں پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے بارے میں ’اوور سائٹ اینڈ انویسٹیگیشن‘ یا ’نظرداری و تحقیقات‘ کے عنوان سے ایک کھلی سماعت کی جا رہی ہے جس میں بلوچستان پر صورتحال پر امریکی ماہر اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اپنی گواہی پیش کریں گے۔

نامہ نگار حسن مجتبٰی کے مطابق امریکی کانگریس کی امور خارجہ کی کمیٹی کے اراکین کے سامنے بلوچستان کی صورتحال پر بیان دینے والوں میں واشنگٹن ڈی سی کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر سی۔ کرسٹین فیئر، امریکی فوجی تجزیہ نگار اور مصنف رالف پیٹرس اور انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان کے لیے ڈائریکٹر علی دایان حسن بھی شامل ہیں۔

امریکی کانگرس کے اعلامیے میں اس تقریب میں شرکت کے لیے دعوتِ عام دی گئی ہے۔

گزشتہ چند سالوں سے عموماً اور چند ماہ سے خصوصاً بلوچستان کا مسئلہ امریکی ميڈیا، تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز شخصیات اور اداروں کی دلچسپی اور توجہ کا مرکز رہا ہے۔

واشنگٹن میں بلوچستان پر مسئلے کی بازگشت اس وقت بھی سنائی دی جب گزشتہ ماہ امریکی وزراتِ خارجہ کی ترجمان سے انٹرنیٹ پر پبلک بریفنگ میں بلوچستان اور گمشدگیوں پر سوال پوچھا گیا تھا۔ اس سوال کے جواب میں امریکی وزرات خارجہ کی ترجمان نے کہا تھا کہ امریکہ کو بلوچستان میں تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں پرگہری تشویش ہے۔

یاد رہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے لیے امریکی کانگریس اپنی ایک رپورٹ میں بلوچستان میں گمشدہ افراد کے بارے میں پہلے ہی اپنی تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔

مقامی امریکی بلاگرز اور تھنک ٹیکس نے حال ہی میں بلوچستان کی صورتحال پر بلاگس شائع کیے ہیں جبکہ کچھ عرصہ قبل بلوچستان پر بلوچ قوم پرستوں نے کانفرنس بھی منعقد کی تھی جس میں دنیا بھر سے جلاوطن بلوچ رہنما اور قوم پرست کارکن شریک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں