’مؤثر قانون نہیں تو کارروائی کیسے کریں‘

رحمن ملک تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جب پارلیمان قانون نہیں بنائے گی تو سکیورٹی ایجنسیاں کارروائی کیسے کر سکیں گی:رحمان ملک

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ملک میں انسداد دہشتگردی کے لیے مؤثر قوانین نہیں ہیں اور اسی وجہ سے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں میں دشواری ہو رہی ہے۔

یہ بات انہوں وزیر مملکت شیخ وقاص اکرم اور مسلم لیگ (ن) کے صاحبزادہ فضل کریم کی جانب سے بعض مذہبی اور کالعدم جماعتوں کے اتحاد ’دفاعِ پاکستان کونسل‘ کی مبینہ غیر قانونی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں نکتۂ اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے قومی اسمبلی میں کہی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ کافی عرصہ سے انسداد دہشت گردی کے قانون میں ترمیم کا بل ایوان بالا سینیٹ میں زیر التواء ہے اور اس کی منظوری کے بغیر نام تبدیل کر کے سیاسی سرگرمیاں کرنے والی جماعتوں کے خلاف کارروائی میں قانونی رکاوٹ ہے۔

قومی اسمبلی میں موجود بی بی سی اردو کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق شیخ وقاص اکرم نے نکتۂ اعتراض پر کہا کہ انہوں نے گزشتہ دنوں کابینہ کے اجلاس میں یہ بات اٹھائی کہ کالعدم جماعتوں نے دفاع پاکستان کونسل کے نام سے ملک بھر میں جلسے جلوس شروع کیے ہیں اور یہ پاکستان کے ساتھ ایک مذاق ہے۔

ان کے بقول وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ انہوں نے صوبائی حکومتوں کو خط لکھے ہیں کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کریں اور انہیں جلسے جلوس کرنے نہ دیں۔ ’مجھے اس خط کی کاپی بھی ملی ہے لیکن رحمان ملک جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ وہی جماعت آج اسلام آباد میں جلسہ کر رہی ہے۔جب وہ اسلام آباد میں انہیں نہیں روک سکتے تو صوبوں پر انگلی کیسے اٹھا رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم جماعتوں کے خلاف بات کرنا اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے کے برابر ہے لیکن یہ شرم کی بات ہے کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی اور جو حکومت کالعدم جماعتوں کو نہیں روک سکتی وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کیا لڑے گی۔

اس کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ فاضل رکن نے اخباری خبر پڑھ کر بات کی ہے اور وہ اس کی تحقیقات کروائیں گے اور اگر یہ بات درست نکلی تو حکومت متعلقہ تنظیم کے خلاف کارروائی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کالعدم جماعتیں نئے ناموں سے جماعت بنا لیتی ہیں۔

وزیر داخلہ کے بیان پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ وہ شیخ وقاص اکرم کی تائید کرتے ہیں کیونکہ یہ کالعدم جماعتیں پاکستان کا تمسخر اڑا رہی ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ لاہور میں سنی کونسل کو جلسہ کرنے نہیں دیا گیا لیکن دفاعِ پاکستان کونسل کو اجازت دی گئی؟۔ ان کے بقول جو ملکی رٹ کو چیلنج کرتےہیں دہشت گردی کرتے ہیں انہیں اگر اجازت دی گئی تو پاکستان کو خطرہ ہوگا۔

ان کا جواب دیتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قانون میں ترمیم کا بل سینیٹ میں کافی عرصے سے زیر التویٰ ہے جب پارلیمان قانون نہیں بنائے گی تو سکیورٹی ایجنسیاں کارروائی کیسے کر سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ بیشک تین برس کے لیے ترمیمی بل منظور کرلیں تاکہ موجودہ حالات سے نمٹا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسلام آباد میں کالعدم تنظیموں کو جلسے کرنے نہیں دے گی۔

اسی بارے میں