پاکستان ایک مشکل ملک: اناتول لیوین

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ممتاز صحافی اور مصنف اناتول لیوین کا کہنا ہے کہ ہر چند کہ پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے لیکن اُن خطرات میں ضرور ہے جو اسے ناکام ریاست بنا سکتے ہیں۔

سنیچر کو کراچی میں اپنی نئی کتاب ’پاکستان: اے ہارڈ کنٹری‘ کے حوالے آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے صدر دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی کتاب پاکستان میں ’طاقت اور اقتدار کا خاکہ ہے۔ وہ کن عناصر پر مشتمل ہے، اُسے کیسے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے ثقافتی، سماجی اور مذہبی سرچشمے کیا ہیں۔‘ اس کا پس منظر افغانستان اور پاکستان میں شدت پسندی کا فروغ ہے۔

شہریوں، سیاستدانوں، دانشورں، کالم نگاروں اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا نقطۂ نظر اکثر خود ان کی اپنی دنیا کو پسند نہیں آتا۔ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نہ کہا کہ ایک بڑے امریکی ادارے نے ان کی موجودہ کتاب شائع کرنے کی بات کی لیکن جب اس نے کتاب دیکھی تو یہ کہہ کر اپنی پیشکش واپس لے کہ ’ہم سمجھے تھے کہ کتاب طالبان کے بارے میں ہے لیکن یہ تو پاکستان کے بارے میں ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کتاب میں فوج کے کردار، چاروں صوبوں اور ان میں موجود اختلافات کا بھی جائزہ لیا ہے۔

اناتول کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے تنوع کو سمجھنے کے لیے خاصا بڑا وقت صرف کیا ہے۔ انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کراچی باقی سندھ سے کیسے مختلف ہے، پنجاب کیسے بالکل مختلف ہے اور اقتدار کے حصول میں وراثتی سیاست نے کیا کردار ادا کیا ہے۔

اناتول لیوین کنگز کالج لندن میں عالمی تعلقات اور دہشت گردی کے مطالعے کے پروفیسر اور واشنگٹن میں نیو امریکن فاؤنڈیشن کے فیلو ہیں اور اس سے پہلے وہ بی بی سی ورلڈ سروس کے ساتھ بھی وابستہ رہے ہیں۔ وہ مسلمان دنیا کے بارے میں کئی مقبول کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر اوقات بہت ساری توقعات کا پورا ہونا ممکن نہیں ہوتا۔

انہوں نے بہت واضح انداز میں کہا کہ پاکستان میں ایران جیسا انقلاب آنے کا کوئی امکان نہیں ہے کیوں کہ پاکستان کی ثقافت ایران جیسی واحدانی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسائل کو سمجھنے کے لیے مغرب کا طریقۂ کار ناقص ہے اور وہ عام لوگوں کی باتوں کو اہم نہیں سمجھتےلیکن وہ چوں کے صحافی رہے ہیں اس لیے وہ عام لوگوں کی باتوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو بلوچستان میں انصاف کے نظام کو سمجھنا ہے تو آپ کو بلوچ سردار سے بات کرنی پڑے گی۔

طالبان سے ہمدردی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پشاور جیسے شہر میں طالبان کو وہی ہمدردی حاصل ہے جو 1980 میں مجاہدین کو حاصل تھی اور بہت سے لوگوں کے نزدیک طالبان وہی کام کر رہے ہیں جو 1980 میں مجاہدین کر رہے تھے۔

پاکستان کی داخلی سیاست پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی کارروائیوں نے پاکستان میں شدت پسندی کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ پاکستان امریکہ ہی کے لیے نہیں ساری دنیا کے لیے ایک اہم ملک ہے ’افغانستان کو بچانے کے لیے پاکستان کی تباہی کا خطرہ مول لینے کا کوئی جواز نہیں۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن آپریشن نے امریکی رائے عامہ کو تبدیل کیا ہے اور اب اگر امریکہ یا انڈیا پر کوئی حملہ ہوتا ہے اور اس کا سلسلہ پاکستان سے ملتا ہے تو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات یقیناً متاثر ہوں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان عالمی دہشت گردی کے خلاف نہ صرف تعاون جاری رکھے بلکہ اس کا تعاون دکھائی بھی دے۔

اناتول کا کہنا تھا کہ پاکستان کا تنوع اس کی قوتِ برداشت میں مضمر ہے۔ پاکستان افغانستان، چیچنیا یا صومالیہ نہیں ہے۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ وہ ضیاالحق کے کردار کے بارے میں کیا کہتے ہیں، کیوں کہ وہی پاکستان میں مذہبی سیاست کے فروغ کے ذمہ دار ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ ساری ذمہ داری ضیاالحق پر ڈالنا درست نہیں ہے اس میں امریکہ نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ضیا نے زیادہ کامیابی حاصل نہیں کی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت افغانستان میں ویسی ہی صورتِ حال سے دو چار ہے جیسی سوویت یونین کو درپیش تھی۔

ویت نام اور افغانستان میں مماثلت کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک امریکی جنرل سے فتح کی تعریف کرنے کے لیے کہا تو ان کا جواب تھا کہ ’میں فتح کی تو تعریف متعین نہیں کر سکتا لیکن یہ جانتا ہوں کے شکست سائیگاؤں جیسی ہوتی ہے۔‘

بلوچستان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ایک وقت تھا کہ صرف ایک قبیلہ مملکت کے خلاف تھا لیکن اب ایک بڑی غیر قبائلی اور نیم خواندہ اکثریت بلوچ بغاوت میں شامل ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بلوچستان صومالیہ جیسا محسوس ہوتا ہے۔