بلوچستان: فائرنگ سے دو افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نوشکی پولیس نے واقعہ کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیتے ہوئے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا

بلوچستان کے علاقے نوشکی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک آباد کار سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے۔

پولیس نے اس واقعہ کو ٹارگٹ کلنگ قراد دیدیا ہے۔

دوسری جانب بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان میرک بلوچ نے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلیفون کر کے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق نوشکی شہر میں اتوار کو نامعلوم افراد نے ایک حمام پر فائرنگ کی جس کے نیتجے میں حجام فیاض احمد اور کشمیر خان بادینی شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر سول ہسپتال نوشکی منتقل کردیاگیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

واقعہ کے بعد نامعلوم افراد موٹرسائیکل پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ہلاک ہونے والوں میں فیاض احمد کا تعلق رحیم یارخان سے جبکہ کشمیر خان بادینی نوشکی کے رہائش پذیر تھے۔

دوسری جانب نوشکی پولیس نے واقعہ کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیتے ہوئے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے ان کی تلاش شروع کردی لیکن آخری اطلاع تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔

خیال رہے کہ ایک ہفتے قبل کراچی میں نامعلوم افراد کی جانب سے بلوچستان اسمبلی کے رکن سردارزادہ بختیار خان ڈومکی کی اہلیہ ، بیٹی اور ڈرائیور کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔

بلوچستان کے زیادہ ترقوم پرست جماعتوں کی اپیل پر نہ صرف چار روز تک صوبے کے مختلف علاقوں میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال رہی بلکہ ان قوم پرستوں نے سندھ حکومت سے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں