ڈومکی خاندان پر حملہ، تحقیقات کمیشن کریگا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بختیار خان ڈومکی کی اہلیہ اکبر بگٹی کی پوتی تھیں۔

وفاقی حکومت نے کراچی میں پیش آنے والے اس واقعہ کی تحقیقات کے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

اس حملے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے بلوچستان اسمبلی کے رکن سردار زادہ بختیار خان ڈومکی کی اہلیہ، بیٹی اور ڈرائیور ہلاک ہوئےتھے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق وفاقی حکومت نے ایک ہفتے قبل کراچی کے علاقے گذری میں پیش آنے والے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کافیصلہ کیا جس میں نامعلوم افراد نے رکن بلوچستان اسمبلی سردارزادہ بختیار خان ڈومکی کی گاڑی پرفائرنگ کی تھی اور نتیجے میں انکی اہلیہ ، بیٹی اور ڈرائیور ہلاک ہوئےتھے۔

کوئٹہ میں وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق کمیشن میں بلوچستان اسمبلی کے چار ارکان جن میں صوبائی وزراء میرعلی مدد جتک، اسداللہ بلوچ، زمرک خان اچکزئی اور رکن اسمبلی میر سلیم کھوسہ شامل ہونگے۔

وزارت داخلہ کے ایک اعلی عہدیدار کے مطابق کمیشن کے لیے چاروں نام رکن اسمبلی بختیار خان ڈومکی نے خود تجویز کیے ہیں۔

بقول اعلی عہدیدار کے اس کے علاوہ ریجنل پولیس آفیسر سبی قاضی حسین احمد، اور ڈی آئی جی اسپیشل برانچ کوئٹہ رحمت اللہ نیازی بلوچستان سے اس کمیشن کی معاونت کریں گے۔

جبکہ صوبہ سندھ سے پانچ پولیس اعلی پولیس آفیسران میرخادم حسین رند، محمد اسلم چوہدری، محمد فاروق ، شیرجیل کھرل اور فرحت بھی کمیشن کاحصہ ہونگے۔تاہم ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ کمیشن کس کی سربراہی میں بنے گی اور کب تک اپنی تحقیقاتی رپورٹ حکومت کوپیش کرے گی۔

اسی بارے میں