حمص شہر پر شدید بمباری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حمس شہر میں سوموار کو بمباری شروع ہوئی

شام میں سرکاری فوجوں نے حمص شہر میں حکومت مخالف عناصر کا قلعہ قمہ کرنے کے لیے بھاری توپ خانے سے بمباری شروع کر دی ہے۔

حمص شہر میں موجود بھی بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ حمص شہر پر سوموار کو بمباری شروع ہوئی اور مستقل دھماکوں کی آوازیں گئیں۔

حکومت مخالف لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکاری فوجیں گزشتہ گیارہ ماہ کی شورش کے دوران شدید ترین حملے میں ایک کلینک کو نشانہ بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

دریں اثناء روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی حکومت کے خلاف قرار داد کو ویٹو کرنے کے اقدام کا دفاع کیا ہے۔

بی بی سی کے پال وڈ نے جو حمص شہر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اطلاع دی کہ حمص شہر پر بمباری سوموار کو صبح چھ بجے شروع ہوئی۔

کچھ حکومت مخالف مسلح افراد خود کار ہتھیاروں سے سرکاری فوج کی بمباری کا جواب دے رہے ہیں۔

باغیوں نے دعوی کیا ہے کہ سرکاری فوج کی بمباری سے بابا امر ضلع میں ایک ہسپتال کو نقصان پہنچا ہے جس میں ہلاکتوں کا خدشہ بھی ہے۔

اس ہسپتال میں گزشتہ دنوں میں ہونے والی جھڑپوں اور بمباری میں زخمی ہونے والے شہریوں کا علاج کیا جا رہا تھا۔

حکومت کے خلاف مہم چلانے والوں میں شامل ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ سرکاری فوجیں ہیلی کاپٹر اور ٹینکوں کا استعمال بھی کر رہی ہے۔

سوموار کو بعد دوپہر تک سرکاری بمباری میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

شام کے سرکاری ٹی وی نے کہا ہے کہ ’دہشت گرد‘ گروہوں نے حمص شہر میں ایک عمارت کو اڑا دیا ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی صنا نے اطلاع دی ہے کہ حمص شہر میں تیل پائپ لائن ایک دھماکے میں تباہ ہو گئی ہے۔

شام کے ذرائع ابلاغ اور حکومت مخالف عناصر دونوں ہی یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ شامی شہر عدلیب اور دمشق کے شمال مغربی قصبے زبانادی میں بھی گڑ بڑ ہو رہی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے جنہیں بیرونی امداد حاصل ہے۔

ہزاروں کی تعداد میں سابق فوجی حکومت مخالف گروہ ’فری سیرین آرمی‘ میں شامل ہو گئے ہیں۔

شام میں کچھ شہریوں کا خیال ہے کہ سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرار داد کو روس اور چین کی طرف سے ویٹو کیے جانے سے حکومت کو اپنے مخالفین کو کچلنے کے لیے کارروائیاں کرنے کی شہ ملے گی۔