’ممکنہ برطرفی کے خلاف درخواست قابلِ سماعت‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption درخواست کی سماعت کے لیے جلد ہی ایک بینچ تشکیل دیا جائے گا

سپریم کورٹ نے بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی یعنی انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کی ممکنہ برطرفی کے خلاف درخواست باقاعدہ طور پر سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔

عدالت نے اس درخواست پر اٹارنی جنرل سے کہا تھا کہ وہ حکومت سے تحریری طور پر بیان لے کر عدالت میں پیش کریں کہ وفاقی حکومت کا ان فوجی افسران کو اُن کے عہدے سے برطرف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اسلام آباد کے ایک مقامی وکیل ایف کے بٹ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی ابتدائی سماعت کی تو اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کا ان فوجی افسران کو اُن کے عہدے سے ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ اٹارنی جنرل نے وزیر اعظم کے بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کو حکومت نے اپنی مرضی سے اُن کی مدتِ ملازمت میں توسیع دی ہے تو پھر کیسے ان افسران کو اُن کے عہدوں سے ہٹایا جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس درخواست کی گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا تھا کہ اس ضمن میں تحریری یقین دہانی عدالت کو کروائی جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

درخواست گُزار ایف کے بٹ کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس دو مئی کو القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت کے بعد امریکی حکام کو لکھے گئے متنازع میمو کے سامنے آنے کے بعد فوجی قیادت اور حکمرانوں کے درمیان شدید اختلافات تھے جس کی وجہ سے موجودہ حکومت نے ان فوجی افسران کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ ان فوجی افسران کی جانب سے عدالت میں متازع میمو سے متعلق جواب داخل کروانے کے بعد حکومت فوجی قیادت کے مزید خلاف ہوگئی تھی اور سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی کی برطرفی بھی اس سلسلے کی جانب ایک قدم ہے۔

یاد رہے کہ سابق سیکرٹری دفاع نے اپنی برطرفی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ درخواست گُزار کے تحفظات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اٹارنی جنرل نے اس درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات بھی اُٹھائے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق اپنے دلائل میں ذکر کریں۔

اس درخواست کی سماعت کے لیے جلد ہی ایک بینچ تشکیل دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل انجینیئر خالد جمیل کی جانب سے آئی ایس آئی کے سربراہ کو اُن کے عہدے سے ہٹانے کے لیے ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔ اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے وزیر اعظم کی رضا مندی کے بغیر متنازع میمو کے اہم کردار امریکی شہری منصور اعجاز سے لندن میں ملاقات کی تھی تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے ابھی تک اس درخواست کو قابل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فصیلہ نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف کو سپریم کورٹ کا جج اور جسٹس ثاقب نثار کو لاہور ہائی کورٹ کا جج بنانے کے حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے بعد حکومت اور عدلیہ کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوگیا تھا اور کچھ نجی ٹی وی چینلز اور اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوئی تھیں کہ وفاقی حکومت ججز کی بحالی کا نوٹیفکیشن واپس لے رہی ہے۔

اس خبر کے شائع ہونے کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں ایک خصوصی بینچ نے حکومت کو ایسی کارروائی کرنے سے روک دیا تھا۔

وزیر اعظم نے بھی اس ضمن میں یقین دہانی کروائی تھی کہ حکومت کا ایسا کوئی اقدام کرنے کا ارادہ نہیں ہے تاہم عدالت نے حکومت سے تحریری یقین دہانی مانگی تھی جو حکومت نے نہیں دی۔

اسی بارے میں