بلوچستان:سرکاری افسر سمیت پانچ اغواء

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بلوچستان میں اغواء برائے تعوان ایک اہم کاروباو بنتا جا رہا ہے

بلوچستان کے علاقے خضدار میں نامعلوم مسلح افراد نے محکمۂ زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر سمیت پانچ افراد کو اغواء کر لیا ہے، مغویوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بدھ کو ضلع خضدار میں باغبانہ کے مقام پر نامعلوم مسلع افراد نے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالستار ریکی کو دو ساتھیوں اور دو بچوں سمیت اس وقت اغواء کر لیا جب وہ اپنی گاڑی میں کراچی سے سوراب کی طرف آ رہے تھے۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لیویز اور دیگر سکیورٹی حکام جائے وقوع پر پہنچ گئے۔ تاہم آخری اطلاع تک کوئی بازیابی عمل میں نہیں آئی اور نہ کسی نے اغواء کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

قلات سے مقامی صحافی محمد یوسف کے مطابق عبدالستار ریکی سوراب فارم میں تھے جس وقت وہ اغواء ہوئے۔ اس وقت ان کی گاڑی میں ان کے ساتھ مقامی زمیندارحاجی محمد جان اور محمد نواز کے علاوہ ان کے دو بچے بھی موجود تھے۔

خیال رہے کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پرگزشتہ ایک سال کے دوران اغواء برائے تاوان کے درجنوں واقعات ہو چکے ہیں اور تاوان ادا نہ کرنے کی صورت میں اغوا کاروں کی جانب سے کئی تاجر اور مسافر مارے جا چکے ہیں۔

اغواء بارے تاوان کے خلاف کئی بار کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں تاجر تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہڑتالیں اور مظاہرے بھی ہوئے ہیں لیکن صوبائی حکومت ابھی تک ان وارداتوں میں ملوث عناصر کوگرفتار نہیں کر سکی ہے۔

اسی بارے میں