ڈرون حملہ:’حقانی گروپ کے دس شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ اٹھارہ جون دو ہزار چار کو جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے قریب ہوا تھا جس میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے مرکز پر جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں دس شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ یہ حملہ بدھ کی صبح ڈرون حملہ میرانشاہ سے پندرہ کلومیٹر دور جنوب کی جانب سپلگاہ کے علاقے میں ہوا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون نے میزائلوں سے ایک ایسے مکان کو نشانہ بنایا جسے شدت پسند مرکز کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

ان کے مطابق اس حملے میں دس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں مقامی اور افغان طالبان شامل ہیں اور ان کا تعلق حقانی گروپ سے تھا۔

خیال رہے کہ سپلگاہ انگریزوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والے فقیر ایپی کا آبائی گاؤں ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کئی سالوں سے شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم گزشتہ برس نومبر میں سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو افواج کے حملے کے بعد ان میں عارضی تعطل آ گیا تھا۔

یہ عارضی تعطل دو ہزار بارہ کے آغاز میں ہی اس وقت ختم ہو گیا تھا جب سات جنوری کو شمالی وزیرستان میں ہی ڈرون حملہ ہوا تھا اور اس کے بعد ایک ماہ کے دوران ہونے والا یہ چوتھا حملہ ہے۔

امریکی غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں دو ہزار چار سے لے کر اب تک کل دو سو پچاسی سے زائد امریکی ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ اٹھارہ جون دو ہزار چار کو جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے قریب ہوا تھا جس میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے۔

امریکی اداروں کے مطابق دو ہزار چار سے لے کر دو ہزار سات تک پہلے چار سالوں میں کل نو حملے ہوئے جبکہ دو ہزار آٹھ میں تینتیس، دو ہزار نو میں تریپن، دو ہزار دس میں سب سے زیادہ یعنی ایک سو اٹھارہ اور دو ہزار گیارہ میں ستر امریکی حملے ہوئے۔

اسی بارے میں