کراچی: چالیس فٹ لمبی مچھلی کی نمائش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مچھلی کو چھ گھنٹوں کی مشقت کے بعد دو کرینوں کی مدد سے سمندر سے باہر نکالا گیا

پاکستانی مچھیرے کے جال میں پھنسنے والی دیو ہیکل مچھلی کو کراچی کے فش ہاربر پر عوامی نمائش کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق مچھلی پکڑنے والے مچھیرے دلاور حسین نے بتایا ہے کہ اس مچھلی کو کراچی شہر سے پچاس کلومیٹر دور گھوڑا باری پوائنٹ سے پکڑا جو بعد میں مر گئی۔

کراچی کے ساحل پر مچھلی کی نمائش: تصاویر

یہ مچھلی چالیس فٹ لمبی اور تقریبا چار ہزار کلو گرام وزنی ہے اور مقامی زبان میں اسے اندھی ماگر بھی کہا جاتا ہے۔

دلاور حسین نے اپنی لانچ کی مدد سے اسے کھینچ کر منگل کو ہوڑا جیٹی تک پہنچایا، جہاں اسے دیکھنے کے لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوگئی، اس ہجوم میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب نیوز چینلز نے اس کی لائیو کوریج شروع کر دی۔

چھ گھنٹوں کی مشقت کے بعد دو کرینوں کی مدد سے اس مچھلی کو سمندر سے باہر نکالا گیا جس کے بعد اس کی نیلامی ہوئی۔ مقامی نیوز چینلز کا کہنا ہے کہ اسے پونے دو لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا ہے۔

اب اس مچھلی کو فش ہاربر پر عام نمائش کے لیے رکھ دیا گیا ہے اور اس دیکھنے کے لیے بیس روپے کا ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے۔

کراچی فش ہاربر کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالغنی جوکھیو کا کہنا ہے اس شارک کی طبی موت واقع ہوئی ہے اس کا شکار نہیں کیا گیا، کیونکہ ماہی گیر دلاور حسین کے پاس جو کشتی ہے اس کی اتنی طاقت ہی نہیں کہ اسے اتنی بڑی مچھلی کا شکار کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

تاہم جنگی حیات کے عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مشیر ڈاکٹر معظم ان کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس شارک کا معائنہ کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے اس کا شکار کیا گیا ہے کیونکہ جو چیز سمندر میں مرتی ہے وہ فوری تیرتے ہوئے نظر نہیں آتی۔

دو ہزار پانچ سے چونتیس کے قریب شارک وہیل اور دیگر بڑی مچھلیاں ساحل سمندر کے قریب سے مردہ حالت میں پائی گئی ہیں۔ جس کی تمام تفصیلات ڈاکٹر معظم کے پاس موجود ہیں، ان کہنا ہے کہ ان کے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہے کہ کوئی بڑی مچھلی فطری موت کا شکار ہوئی ہیں زیادہ تر یہ جال میں پھنس کر ہی ہلاک ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق ’ شارک وہیل کا شمار ان جانوروں میں ہوتا ہے جو خطرے سے دوچار ہیں مگر مقامی اور بین الاقومی سطح پر ایسا کوئی قانون نہیں ہے، جو اس کے شکار کی ممانعت کرتا ہو‘۔

ڈاکٹر معظم نے بتایا کہ انیس سو ساٹھ تک شارک اور دیگر بڑی مچھلیوں کا باقاعدگی سے شکار کھیلا جاتا تھا مگر اس کے بعد سے یہ سلسلہ رک گیا تھا۔

اسی بارے میں