مہمند دھماکہ: دو اہلکار ہلاک ایک زخمی

مہمند ایجنسی تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption واقعہ کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش کا کام شروع کردیا گیا

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں خاصہ دار فورس کے دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

یہ واقعہ تحصیل صافی کے علاقے علینگار میں اس وقت پیش آیا جب خاصہ دار فورس کے اہلکار گاڑی میں معمول کی گشت پر تھے۔

سرکاری اہلکاروں نے بتایا ہے کہ سڑک کے کنارے نصب بارودی سرنگ کا دھاکہ اچانک ہوا جس میں دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔ اہلکاروں نے بتایا کہ دھماکے سے گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

پشاور سے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش کا کام شروع کردیا گیا لیکن اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

درین اثنا اپنے آپ کو تحریک طالبان مہمند ایجنسی کا ترجمان ظاہر کرنے والے مکرم خراسانی نامی شخص نے اس حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔

خاصہ دار فورس پاکستان کے تمام قبائلی علاقوں میں امن و امان کے قیام کے لیے برطانوی دور میں انیس سو اکیس میں قائم کی گئی تھی جو پولیٹکل انتظامیہ کے زیر کنٹرول ہوتی ہے۔

قبائلی علاقوں میں خاصہ دار فورس کے علاوہ مقامی روایتی سکاؤٹس بھی امن و امان کے قیام کے لیے کوششیں کرتے ہیں جبکہ فرنٹیئر کور اور فرنٹیئر کانسٹبلری بھی مختلف مقامات پر تعینات رہتی ہے۔

مہمند ایجنسی میں شدت پسندی کے حوالے سے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں ۔ مہمند ایجنسی میں عام تاثر یہ ہے کہ حالات دو ہزار نو میں زیادہ خراب ہو گئے تھے جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے مہمند ایجنسی کے مختلف مقامات پر فوجی آپریشن کیے ہیں۔ گزشتہ سال کے آخر میں ان علاقوں کو حکام کے مطابق شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا تھا۔

افغانستان میں تعینات اتحادی اور نیٹو افواج نے گزشتہ سال نومبر میں مہمند ایجنسی کے علاقے سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا جس میں دو درجن سے زیادہ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں