توہینِ عدالت: آٹھ رکنی بینچ تشکیل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیراعظم انیس جنوری کو توہینِ عدالت کے معاملے میں سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو چکے ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم کی جانب سے توہینِ عدالت کے معاملے میں فردِ جرم عائد کیے جانے کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کے لیے آٹھ رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ بینچ کل (جمعرات) انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کرے گی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے حکم میں کہا کہ سپریم کورٹ جمعہ دس فروری کو اپنے طے شدہ شیڈول کی وجہ سے اس اپیل کی سماعت نہیں کر سکتی اور اپیل کرنے والے اگر چاہیں تو اس معاملے کی سماعت نو فروری بروز جمعرات کی جا سکتی ہے۔

اس آٹھ رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کریں گے۔ اس بینچ میں جسٹس میاں شاکراللہ جان، جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس طارق پرویز، جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس امیر ہانی مسلم شامل ہیں۔

اس سے قبل وزیراعظم کی جانب سے دو سو صفحات پر مشتمل یہ انٹرا کورٹ اپیل اعتزاز احسن نے ہی تیار کی اور اسے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ایس ایم خٹک نے بدھ کی صبح دائر کیا۔ اس میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ اپیل پر فیصلہ ہونے تک دو فروری کے حکم نامے پر عملدرآمد معطل کیا جائے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ جس سات رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف یہ اپیل دائر کی گئی ہے اُن کا لارجر بینچ میں شامل ہونا مناسب نہیں۔

سپریم کورٹ نے این آر او عملدرآمد مقدمے میں سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے پر وزیراعظم پاکستان کو توہینِ عدالت میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

اس نوٹس پر وزیراعظم گیلانی انیس جنوری کو عدالت میں حاضر بھی ہوئے تھے تاہم دو فروری کو سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں انہیں تیرہ فروری کو دوبارہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا جہاں ان پر توہینِ عدالت کے معاملے میں فردِ جرم عائد کی جانی ہے۔

اس درخواست میں بین الاقومی قوانین کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں اُن کے بقول صدر کو ملکی اور بین الاقوامی عدالتوں میں استثنیٰ حاصل ہے۔ درخواست میں سوئٹرزلینڈ کے قوانین کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اس کے علاوہ پچاس سے زائد مقدمات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

وزیراعظم گیلانی کی اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دو فروری کو سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے ان کے موکل کو سنے بغیر اس پر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ سنایا۔

درخواست میں ترپن قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں جن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فردِ جرم کی کارروائی سے قبل اپیل کی سماعت کی جائے اور جب تک اس اپیل کا فیصلہ نہیں ہوتا فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی نہ کی جائے۔

اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے سنہ اُنیس سو تہتر کے رولز آف بزنس کے تحت اسی سمری پر عملدرآمد کیا جو اُنہیں سیکرٹری قانون اور اس وقت کے اٹارنی جنرل نے پیش کی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ سوئس مقدمات کا معاملہ ختم ہو چکا ہے اس لیے خط لکھنے کی ضرورت نہیں۔

اپیل کے مطابق وزیراعظم کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی نہیں بنتی اس لیے یہ نوٹس واپس لیا جائے۔

اپیل دائر کیے جانے کے بعد وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مناسب یہی ہے کہ جن سات ججز کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کی گئی ہے وہ اس اپیل کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنائے جانے کی صورت میں اُس بینچ میں نہ بیٹھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت کے لیے نو فروری کی تاریخ تجویز کی ہے

اُنہوں نے کہا کہ وہ اس مقدمے میں بہت سی مثالیں دینا چاہتے تھے لیکن اُنہیں اتنا وقت نہیں دیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے تیس دن کی بجائے گیارہ دن کا وقت دیا گیا۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل کی سماعت کے لیے اگر لارجر بینچ بنتا ہے اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اُس بینچ میں شامل ہوتے ہیں تو وہ ضرور پیش ہوں گے۔

اس سے پہلے اُنہوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد اُن کی عدالت میں پیش نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ وہ گُزشتہ چار برس سے چیف جسٹس کی عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ ججز بحالی کے لیے وکلاء تحریک کے رہنما چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں۔

اعتزاز احسن چیف جسٹس کی عدالت میں زیر سماعت سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے مقدمے میں دی جانے والی سزا سے متعلق صدارتی ریفرنس میں بطور عدالتی معاون پیش ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں