بیسویں ترمیم:’بات چیت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ other

پاکستان میں حکومت اور حزب مخالف کے درمیان اختلاف رائے کی وجہ سے آئین میں بیسویں ترمیم کا بل کئی روز کی تاخیر کے بعد بدھ کو قومی اسمبلی میں پیش ہونے کا امکان ہے۔

حکمران پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کی مسلم لیگ (ن) کے درمیان فیصلہ کن تیسرے مرحلے کی بات چیت بدھ کی دوپہر کو ہوگی اور بات چیت کی کامیابی کے بعد ہی شام کو بلائے گئے اجلاس میں وزیرِ قانون مولا بخش چانڈیو یہ بل پیش کریں گے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق فریقین میں معاملہ نگران حکومت کے طریقہ کار پر اٹکا ہوا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانے سمیت دیگر معاملات طے پا چکے ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ نگران حکومت اپوزیشن کی مشاورت سے بنائی جائے گی لیکن مسلم لیگ (ن) کا مطالبہ ہے کہ نگران حکومت اتفاق رائے سے قائم کیے جانے کی شق آئینی ترمیم میں شامل کریں۔

مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما چوہدری نثار علی خان نے عندیہ دیا ہے کہ بدھ کی بات چیت نتیجہ خیز ہوسکتی ہے۔

اب تک مذاکرات کے جو دور ہوئے ہیں اس میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ، سید نوید قمر اور میاں رضا ربانی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے چوہدری نثار علی خان، آفتاب شیرپاؤ اور مولانا فضل الرحمٰن شریک ہوئے ہیں۔

بنیادی طور پر بیسویں آئینی ترمیمی بل کا مقصد سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ان اٹھائیس اراکین کے ضمنی انتخابات کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق قانون کا تحفظ فراہم کرنا ہے جو الیکشن کمیشن کے نامکمل ہونے کے دوران ہوئے ہیں۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو چھ فروری تک مہلت دی تھی اور جب یہ بل منظور نہیں ہوسکا تو عدالت عظمیٰ نے مجوزہ بل کی منظوری تک متعلقہ اراکین کی رکنیت معطل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

حکومت نے اٹھارہ جنوری کو یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا اور سپیکر نے یہ بل کمیٹی کو بھجوایا تھا۔ کمیٹی نے یہ بل منظور کرنے کی سفارش کی ہے اور گزشتہ پانچ روز سے یہ بل ایجنڈے پر تو آتا ہے لیکن مؤخر ہوجاتا ہے۔

مرکز میں حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ (ن) نے پہلے اعتراض کیا تھا کہ اس بل میں ترمیم کی جائے کہ یہ صرف ایک بار کے لیے ہوگا اور آئندہ نامکمل الیکشن کمیشن کی صورت میں ضمنی انتخابات نہیں کرائے جا سکیں گے۔

ان کی یہ شرط حکومت نے مان لی لیکن بعد میں مسلم لیگ (ن) نے شرط عائد کی کہ الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانے کے لیے کچھ مزید آئینی ترامیم اس میں شامل کریں۔ جب وہ بھی شرط حکومت نے مان لی تو اب نئی شرط نگران حکومت کے بارے میں سامنے آئی ہے۔

قائمہ کمیٹی نے جس بل کا مسودہ منظور کیا ہے اس کے مطابق اس بل کا اطلاق انیس اپریل سنہ دو ہزار دس سے ہوگا۔

واضح رہے کہ حکومت نے اتفاقِ رائے سے اٹھارہویں آئینی ترمیم منظور کی تھی اور اس پر انیس اپریل سنہ دو ہزار دس کو صدرِ مملکت نے دستحظ کیے تھے اور اس روز سے وہ لاگو ہوگئی تھی۔ اٹھارہویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ ہر صوبے سے ہائی کورٹ کے جج کو کمیشن کا رکن نامزد کیا جائے گا۔

لیکن چیف الیکشن کمشنر نے دیگر اراکین کی غیر موجودگی میں ضمنی انتخابات کروائے اور جب یہ معاملہ عدالت میں آیا تو سپریم کورٹ نے کہا کہ انیس اپریل سنہ دو ہزار دس کے بعد منعقد کردہ ضمنی انتخابات کو قانونی تحفظ دیا جائے۔

اسی بارے میں