ڈومکی قتل، سینیٹروں کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اگر امریکہ طالبان کے ساتھ دس سال تک جنگ کے بعد بھی بات کرسکتا ہے تو ناراض بلوچوں سے بات کیوں نہیں ہوسکتی: مولانا غفور حیدری

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں بدھ کو حکومت کی اتحادی اور اپوزیشن کی جماعتوں نے کراچی میں برہمداغ بگٹی کی ہمشیرہ اور بھانجی کے قتل کے خلاف احتجاجی واک آؤٹ کیا اور بحث کے دوران اکثر اراکین نے قتل کا ذمہ دار اسٹیبلشمینٹ کو قرار دیا۔

جمہوری وطن پارٹی کے شاہد بگٹی نے کہا کہ ڈومکی خاندان کی خواتین کو ان قوتوں نے قتل کیا جو بلوچستان کے سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکتے ہیں۔

شاہد بگٹی نے کہا کہ ان کے صاحبزادے کی شادی میں شرکت کے بعد جب برہمداغ کی ہمشیرہ اپنی بیٹی اور ملازمہ کے ہمراہ گھر جا رہی تھیں تو نقاب پوشوں نے ان کی گاڑی روکی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین نے نقاب پوشوں کو کہا کہ زیور یا نقدی لے لیں لیکن قاتل نے کہا کہ ’ہمیں کچھ نہیں چاہیے آپ کو قتل کرنا ہے۔‘

شاہد بگٹی نے کہا کہ ’سائلنسر والی گن استعمال کی گئی اور جو گولیوں کے خول ملے ہیں وہ بھی ایسی ساخت کے ہیں جو سائلنسر گن میں استعمال ہوتی ہیں کیونکہ ان میں بارود کم استعمال ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ بختیار ڈومکی کی اہلیہ کو بالوں سے پکڑ کر گاڑی سے باہر نکال کر چہرے میں برسٹ مارا گیا اور قاتلوں نے ٹارچ جلا کر ان کے مرنے کی تسلی کی اور بھاگ گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے سوال کیا کہ کیا بلوچستان میں قتل عام حکومت کی اجازت سے ہوتا ہے؟ ’پہلے مشرف کے دور میں ہمارے لوگ اغوا ہوتے تھے اور تشدد کے بعد چھوڑ دیئے جاتے تھے لیکن ابھی لاشیں ملتی ہیں۔ کیا یہ جمہوریت ہے؟‘

انہوں نے کہا بلوچستان نے ہمیشہ سندھ کا ساتھ دیا ہے اور یہ خواتین سندھ میں قتل ہوئیں ہیں اور یہ سندھ پر بلوچستان کا قرض ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض حکومتی ذمہ داران اس قتل کو ذاتی دشمنی کا رنگ دیتے ہیں۔’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بلوچ اپنے بدترین دشمن کی خواتین کو بھی قتل نہیں کرتے۔‘

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں کچھ قوتیں قانون سے بالاتر ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے شکوہ کیا کہ سیاستدانوں کو روز عدالتوں میں گھسیٹتے ہیں کیا ان کے ہاتھ بلوچ خواتین کے قاتلوں کے گریباں تک نہیں پہنچتے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ طالبان کے ساتھ دس سال تک جنگ کے بعد بھی بات کرسکتا ہے تو کیا ناراض بلوچوں سے بات نہیں ہوسکتی؟

جماعت اسلامی کے پروفیسر خورشید نے کہا یہ واقعہ اسٹیبلشمینٹ کی سازش لگ رہا ہے اور حکومت کو زخمی بلوچوں سے بات کرنی چاہیے۔ ان کے بقول ایسا لگتا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان توڑنے اور بلوچستان کو علیحدہ کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان نے کہا کہ بلوچستان کو بچانے میں پارلیمان کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔ ان کی جماعت کے حاجی عدیل اور عبدالنبی بنگش نے کہا کہ اسٹیبلشمینٹ بنگال کا واقعہ بلوچستان میں دہرا رہی ہے۔ ان کے بقول جب حکومت خود اس واقعہ پر رو رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ’ریاست کے اندر ریاست‘ والے ملوث ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے مشاہداللہ خان نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ وحشیانہ قتل کا واقعہ شدید انتقامی عمل ہے۔ انہوں نے صدر زرداری پر تنقید کی کہ و اگر کامیاب سیاستدان ہیں تو اپنی مفاہمت کے جوہر بلوچستان میں کیوں نہیں دکھاتے؟

ایس ایم ظفر نے قتل کی مذمت کی اور کہا کہ تحقیقات کا انتظار کرنا چاہیے اور کسی ادارے پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔

قائد ایوان سید نیئر بخاری نے کہا کہ یہ سنگیں نوعیت کا وقعہ ہے اس کی جانچ پارلیمان کی قومی سلامتی سے کرائی جائے۔ لیکن چیئرمین سینیٹ نے کوئی رولنگ نہیں دی اور نکتہ اعتراضات پر بات چیت محض گفتگو ہی ثابت ہوئی۔