کوہاٹ میڈیکل کالج کے سابق ایڈمنسٹریٹر لاپتہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پولیس نے ابتدائی اطلاعی رپورٹ درج کر کے لاپتہ ڈاکٹر کی تلاش کا کام شروع کردیا ہے

پاکستان میں صوبۂ خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں حکام کا کہنا ہے صوبائی گورنر کے ایک رشتہ دار اور کوہاٹ میڈیکل کالج کے سابق ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر مطیع اللہ لاپتہ ہوگئے ہیں۔

ڈاکٹر مطیع اللہ کے بھائی سمیع اللہ شاہ نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ ان کے بھائی بدھ کی شام کوہاٹ کے علاقے ’منگل بی بی‘ میں واقع اپنا زیر تعمیر مکان دیکھنے گئے تھے اور وہاں سے لاپتہ ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ کل سے انہوں نے پورا علاقہ چھان مارا لیکن ابھی تک مطیع اللہ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے علم میں نہیں آیا ان کے بھائی کو کسی نے اغواء کرلیا ہے یا ان کے لاپتہ ہونے کا سبب کچھ اور ہے۔

پولیس نے ابتدائی اطلاعی رپورٹ درج کر کے لاپتہ ڈاکٹر کی تلاش کا کام شروع کردیا ہے۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر مطیع اللہ خیبر پختون خوا کے گورنر بیرسٹر مسعود کوثر کے رشتہ دار بتائے جاتے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کوہاٹ میں کچھ عرصہ سے اغواء برائے تاؤان کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

تقریباً دو سال قبل کوہاٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر لطف اللہ کاکاخیل کو بھی اغواء کیا گیا تھا جبکہ سترہ ماہ سے اغواء اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر اجمل خان کو بھی اب تک بازیاب نہیں کرایا جاسکا ہے۔

اسی بارے میں