سینیٹ میں امریکی اقدام پر احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں حکومت اور حزب مخالف کے کچھ سینیٹرز نے امریکہ میں بلوچستان کے بارے میں عوامی سماعت کو پاکستان کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا۔

ان اراکین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ یہ معاملہ امریکہ کے ساتھ اٹھائے۔

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے میاں رضا ربانی نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور امریکہ نے اپنے ایوان نمائندگان کی خارجہ کمیٹی میں یہ معاملہ اٹھا کر اُسے عالمی مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا کہ میاں رضا ربانی نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں حکومتی پالیسی سے وہ اتفاق نہیں کرتے اور اس بارے میں وقت بوقت اپنا مؤقف بیان کرتے رہے ہیں لیکن امریکہ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ امریکہ سے احتجاج کرے۔

جماعت اسلامی کے پروفیسر محمد ابراہیم نے بھی رضا ربانی کی تائید کی اور کہا کہ امریکہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بلوچستان کا معاملہ حل کرے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی عدیل نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ ایسا اقدام مداخلت ہے لیکن اتنی بڑی بات بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اب ’گلوبل ولیج‘ بن چکی ہے اور کوئی علیحدہ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات خراب ہیں اور معاملے کا حل ہمیں نکالنا چاہیے۔

قائد ایوان سید نئیر بخاری نے کہا کہ وہ ایوان کی تشویش کے بارے میں حکومت کو آگاہ کریں گے اور دفتر خارجہ سے کہیں گے کہ وہ ضروری اقدامات کرے۔

جمعرات کو سینیٹ کی کارروائی میں وقفہ سوالات ایجنڈے پر تھا لیکن اس پر کارروائی نہیں ہوئی اور محض بیس منٹ کی کارروائی کے بعد اجلاس جمعہ کی صبح تک ملتوی کردیا گیا۔

اسی بارے میں