’زیرِحراست بریگیڈیئر پر فردِ جرم عائد‘

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption برگیڈئیر علی خان کو گزشتہ برس چھ مئی کو فوجی صدر دفاتر جی ایچ کیو راولپنڈی سے حراست میں لیا گیا تھا

پاکستانی فوج کے زیرِ حراست بریگیڈیئر علی خان پر ایک شدت پسند تنظیم کے ساتھ روابط کے الزامات میں باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے اور عسکری ذرائع کے مطابق ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی بہت جلد شروع کر دی جائے گی۔

بریگیڈیئر علی خان کو گزشتہ برس چھ مئی کو فوج کے صدر دفتر جی ایچ کیو راولپنڈی سے حراست میں لیا گیا تھا جہاں وہ خدمات انجام دے رہے تھے۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ بریگیڈیئر علی خان اور چار دیگر حاضر سروس فوجی افسروں کو کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ روابط رکھنے کے الزام میں باقاعدہ چارج شیٹ اسی ہفتے جاری کی گئی ہے جس کے ساتھ ان پر لگائے جانے والے الزامات کے حق میں شواہد (سمری آف ایویڈنس) بھی منسلک ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی تاہم پاکستانی فوج کی قانونی برانچ کے سابق سربراہ اور کورٹ مارشل مقدمات کے نامی گرامی وکیل کرنل ریٹائرڈ محمد اکرم نے بی بی سی کو بتایا کہ بریگیڈیئر علی کے لواحقین نے فوجی عدالت میں ان کا مقدمہ لڑنے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔

کرنل اکرم نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ بریگیڈیئر علی خان کو چارج شیٹ اور سمری آف ایویڈنس جاری کر دیے گئے ہیں۔

فوجی قوانین کے مطابق چارج شیٹ جاری کرنے کے چند روز کے اندر ہی ملزمان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع ہو جانی چاہیے۔

ذرائع کا کہنا ہے چارج شیٹ میں بریگیڈیئر علی پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ارکان سے ملتے رہے اور ان کے مقاصد کے حصول میں ان کی مدد کرنے کا وعدہ کرتے رہے۔

الزامات کے مطابق بریگیڈیئر علی نے حزب التحریر کے ایجنڈے کو فوجی ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو میں بھی نافذ کرنے اور کئی فوجی افسروں کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کورٹ مارشل میں برگیڈیئر علی کے علاوہ بعض دیگر فوجی افسر اور حزب التحریر کے ارکان کے خلاف بھی مقدمہ چلے گا۔

کورٹ مارشل کا طریقہء کار

پاکستانی فوج کے ایک سابق سینئر افسر ریٹائرڈ بریگیڈیئر محمد سعد کے مطابق فوج کے اندر میجر رینک تک کے اہلکار کے خلاف کمانڈنگ افسر کسی الزام پر انتظامی کارروائی کرسکتا ہے لیکن لیفٹیننٹ کرنل اور اس سے بالا رینک کے افسران کے خلاف کارروائی کے لیے کورٹ میں جانا پڑتا ہے۔

فوج کے اپنے قانونی طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ لیفٹیننٹ کرنل یا اس سے اوپر کے رینک والے کسی افسر کے خلاف اگر چارج واضح نہیں ہو تو اس کے لیے کورٹ آف انکوائری کا حکم دیا جاتا ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ الزام کے متعلق حقائق کمانڈنگ افسر کے سامنے لائے جائیں۔

’کورٹ آف انکوائری سے جب حقائق سامنے آجاتے ہیں تو اس کے بعد سمری آف ایویڈنس ریکارڈ کی جاتی ہے جس میں استغاثہ اپنے شواہد یا شہادتیں پیش کرتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’اس کے بعد اگر کمانڈ نگ افسر سمجھتا ہے کہ الزام کے حق میں کافی شواہد آگئے ہیں تو پھر متعلقہ افسر کے خلاف کورٹ مارشل کا حکم جاری کیا جاتا ہے اور اسے چارج شیٹ جاری کی جاتی ہے۔‘

ریٹائرڈ بریگیڈیئر سعد کے مطابق الزامات کا سامنے کرنے والا فوجی افسر اپنے دفاع کے لیے سول وکیل کی خدمات بھی حاصل کرسکتا ہے۔

اسی بارے میں