سینیٹ الیکشن: پی پی بلوچستان میں اختلافات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سینیٹ کے انتخابات دو مارچ کو منعقد ہوں گے

سینیٹ کے انتخاب کے لیے امیدواروں کی نامزدگی پر اختلافات کے بعد پیپلزپارٹی بلوچستان کے صوبائی نائب صدر نے اپنے عہدے سے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔

پیپلز پارٹی بلوچستان کے نائب صدر اور سابق وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت غلام اکبر لاسی نےجمعہ کے روز پارٹی عہدے مستعفی ہونے کا اعلا ن کیا۔

سینیٹ کے آئندہ انتخابات کے لیے بلوچستان سے پیپلز پارٹی نے پانچ امیدوار نامزد کیے ہیں۔ان امیدواروں میں گورنر بلوچستان نواب ذوالفقارمگسی کے صاحبزادے بیرسٹر سیف اللہ مگسی، سابق وفاقی وزیر سردار فتح محمد حسنی، ممتاز صحافی جاوید احمد، محمد یوسف بلوچ اور حنا گلزار شامل ہیں۔

ان ناموں کے اعلان پر پارٹی کے سینیئر کارکنوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور غلام اکبر لاسی کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم میں قربانیاں دینے والوں کارکنوں کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’سینیئر کارکنوں نے پارٹی کے لیے قربانیاں دیں اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں صرف اس لیے کہ کہیں انہیں بھی عزت کا مقام مل جائے گا لیکن جب سے موجودہ حکومت برسرِ اقتدار آئی ہے تو سینیئر کارکنوں کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے‘۔

تاہم اس بارے میں پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدر اور صوبائی وزیر بےمحکمہ میر صادق عمرانی کا کہنا ہے کہ جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ درست ہوگا۔

یاد رہے کہ گورنربلوچستان نواب ذوالفقار مگسی کے صاحبزادے نے جمعرات کے روز کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا جبکہ یوسف بلوچ کا تعلق کراچی سے ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق ماضی میں بھی سینیٹ کے لیے بلوچستان کی نشتوں پر دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے مالی طور پر مستحکم امیدوار منتخب ہو چکے ہیں۔

لیکن اس بار بلوچستان اسمبلی کے زیادہ ترارکان اور پارٹیوں نے موقف پیش کیاہے کہ وہ دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والوں کو بلوچستان سے سینیٹ کی نشستوں پرکامیاب نہیں ہونے دیں گے کیونکہ اس عمل سے بلوچستان کے عوام میں پائی جانے والی احساس محرومی مزید بڑھ جائےگی۔

اسی بارے میں