انٹرا کورٹ اپیل مسترد، فردِ جرم پیر کو عائد ہوگی‘

اعتزاز احسن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر وزیر اعظم پر فرد جُرم عائد بھی ہوگئی لیکن وہ پھر بھی یہ نہیں کہیں گے کہ وزارت قانون کا مشورہ غلط تھا: اعتزاز احسن

سپریم کورٹ میں وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے توہینِ عدالت کے معاملے میں فردِ جرم عائد کیے جانے کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل مسترد کردی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ اس اپیل کی سماعت کر رہا تھا۔ اس انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق بینچ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے وفاقی حکومت اور وزیر اعظم جو ملک کے چیف ایگزیکٹیو بھی ہیں، کو بارہا کہا گیا لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے پانچ رکنی بینچ بھی تشکیل دیاگیا اور اس بینچ کے سامنے بھی اس فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلےمیں کہا ہے کہ سات رکنی نے وزیر اعظم کو توہین عدالت میں جو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا اُس کا بھی کوئی تحریری جواب نہیں دیا گیا۔

فیصلے میں این آر او کے بارے میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس آرڈیننس کے تحت اندرون ملک اور بیرون ملک ختم کیے گئے مقدمات دوبارہ کھولے جائیں۔

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ نیب یعنی قومی احتساب بیورو کے حکام کے مطابق عوامی عہدہ رکھنے والوں کے خلاف کچھ کیسز بیرون ممالک میں بھی ہیں اور اُس میں چھ کروڑ امریکی ڈالر کی منی لانڈرنگ کی رقم موجود ہے اور وفاقی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس رقم کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے وکیل نےاس انٹراکورٹ اپیل میں موقف اختیار کہا کہ اُنہیں زیادہ سُنا نہیں گیا اور اُن کے مؤکل کے خلاف سات رکنی بینچ نے جو حکم جاری کیا اُس میں وجوہات کا ذکر نہیں کیا گیا تاہم وہ اس ضمن میں عدالت کو مطمئن نہیں کر سکے۔

فیصلہ سنانے کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وزیر اعظم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’سوری مسٹر اعتزاز‘۔

عدالتی فیصلے کے بعد اعتزاز احسن نے میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا ’عدالت نے وزیر اعظم کی اپیل مسترد کردی ہے۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی تیرہ فروری کو عدالت کے سامنے پیش ہوں گے جہاں ان پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

اس سے پہلے وزیر اعظم کے وکیل نے اس انٹراکورٹ اپیل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل نے وزارت قانون کی طرف سے این آر او پر عمل درآمد کے حوالے سے جو ایڈوائس دی گئی اُس پر اُنہوں نے عمل درآمد کیا اس لیے اُن پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں بنتی۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم پر فرد جُرم عائد بھی ہوگئی لیکن وہ پھر بھی یہ نہیں کہیں گے کہ وزیر اعظم کو وزارت قانون کی طرف سے جو ایڈوائس دی گئی وہ غلط تھی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ جس طرح اس آٹھ رکنی بینچ نے انٹرا کورٹ اپیل میں کچھ پیراگراف خدف کروائے ہیں جو اعلیٰ عدالتوں کے ججز سے متعلق تھے اسی طرح پانچ رکنی بینچ کی جانب سے جو وزیر اعظم کے خلاف کہا گیا ہے جس میں اُنہیں بادی النظر میں بددیانت کہا گیا ہے، اُس کو بھی حذف کیا جائے تاہم بینچ نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

بینچ کے سربراہ نے وزیر اعظم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم سے ملاقات کریں اور اُنہیں بتائیں کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے جس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ توہین عدالت کا معاملہ ہے این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کروانے کا نہیں۔

یاد رہے کہ دو فروری کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کو تیرہ فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا جہاں ان پر توہینِ عدالت کے معاملے میں فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

این آر او پر عملدرآمد کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے پر وزیراعظم پاکستان کو توہینِ عدالت میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا تھا جس کے بعد وہ انیس جنوری کو عدالت میں حاضر بھی ہوئے تھے جہاں انہیں مزید حاضری سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا تھا۔

جمعرات کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اگر وزیر اعظم سوئس حکام کو مقدمات دوبارہ شروع کرنے کے لیے خط لکھ دیں تو عدالت اُنہیں جاری کیا گیا نوٹس واپس لے لے گی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم یہ کہتے ہیں کہ سوئٹزلینڈ کی عدالتوں میں کوئی مقدمہ نہیں ہے تو پھر اُنہیں سوئس حکام کو خط لکھنے میں کیا اعتراض ہے۔

وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یقینی طور پر وزیر اعظم نے این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس کے بارے میں عدالتِ عظمی کا آٹھ سو صفحات پر مشتمل فیصلہ نہیں پڑھا ہوگا اور صرف وہ سمری پڑھی ہوگی۔ یہ سمری ان کو وزارت قانون نے بھیجی ہوگی جس میں کہا گیا تھا کہ سوئس عدالتوں میں مقدمات ختم ہوچکے ہیں لہذا متعقلہ حکام کو خط لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت وزیر اعظم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتی لیکن وزیر اعظم بھی تو عدالتی احکامات کی عزت کریں۔

اسی بارے میں