سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بختیار آباد میں سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے دو مظاہرین ہلاک ہوگئے تھے۔

بلوچستان کے علاقے بختیار آباد میں مظاہرین پر فائرنگ کے الزام میں مقامی لیویز نے سکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سنیچر کے روز بختیار آباد لیویز نے سکیورٹی فورسز کے ان آٹھ اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے جن کی مبینہ فائرنگ سے ایک ہفتہ قبل بختیارآباد کےعلاقے لہڑی کے مقام پر دوافراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔

مقدمہ ہلاک ہونے والے ایک نوجوان احمد خان کے چچا امام بخش کی مدعیت میں درج ہوا ہے۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ دوگاڑیوں میں سوار سکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکاروں نے احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کی تھی تاہم مدعی نے ایف آئی آر میں کسی شخص کا نام شامل نہیں لیا ہے۔

فائرنگ کا یہ واقعہ گزشتہ سنیچر کو اس وقت پیش آیا تھا جب ڈومکی قبائل کے مشتعل افراد کراچی میں پیش آنے والے اس واقعہ کے خلاف سڑک بند کر کے احتجاج کر رہے تھے جس میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے رکن بلوچستان اسمبلی سردار زادہ بختیار خان ڈومکی کی اہلیہ، بیٹی اور ڈرائیور ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم بعد میں واقعے کی تحقیقات کے لیے وزیراعلٰی بلوچستان نے ہائی کور ٹ کے جج کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک کمیشن کی سربراہی کرنے والے جج کے نام کا اعلان نہیں ہوسکا۔

کراچی اور بعد میں بختیار آباد کے مقام پر پیش آنےوالے واقعات پر بلوچستان اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ارکان نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ اور حکومت بلوچستان سے ان دونوں واقعات میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا لیکن تاحال ملزمان گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔

اسی بارے میں