کراچی میں دفاعِ پاکستان کانفرنس کا انعقاد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جلسے کے لیے ایک بہت بڑا سٹیج تیار کیا گیا تھا

کراچی میں اتوار کو دفاعِ پاکستان کونسل کے تحت منعقدہ دفاع پاکستان کانفرنس میں جماعتِ اسلامی، جماعت الدعوۃ، انصارالامۃ، اہلسنت و الجماعت سمیت قریباً چالیس مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔

اس کانفرنس کا مقصد بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دیے جانے کی مخالفت اور نیٹو کو رسد کی بحالی روکنے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔

کانفرنس شہر کے وسط میں بانی پاکستان کے مزار کے سامنے پارک میں ہوئی جس میں اگرچہ بڑی تعداد میں لوگ شریک تھے مگر بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق چالیس جماعتوں کی نسبت سے لوگوں کی شرکت توقع سے کم رہی۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق کانفرنس میں اہلِ سنت و الجماعت کے کارکن سب سے زیادہ نظر آئے۔ اہلِ سنت و الجماعت کے حامی اس سے قبل فرقہ وارانہ تنظیم سپاہِ صحابہ کے حامی رہے ہیں جس پر صدر مشرف کی حکومت نے شدت پسندی کے الزام میں پابندی لگادی تھی۔

لشکر طیبہ پر بھی ایسی ہی پابندی کے بعد اس کے سابق امیر حافظ سعید نے جماعت الدعوۃ بنالی تھی اور اس کے کارکنان بھی جلسے میں بھرپور شریک دکھائی دیے تاہم جماعتِ اسلامی کے کارکنان کی شرکت اس جلسے میں برائے نام ہی رہی۔

کانفرنس سے مولانا سمیع الحق، حافظ سعید، شیخ رشید، اہلسنت والجماعت کے امیر مولانا احمد لدھیانوی، افغان جہاد کے وقت آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل، سابق فوجی حکمراں جنرل ضیاء کے صاحبزادے اعجاز الحق، جماعت اسلامی کے امیر منور حسن سمیت کئی اہم رہنماؤں نے خطاب کیا۔

Image caption چالیس جماعتوں کی نسبت سے لوگوں کی شرکت توقع سے کم رہی

مقررین نے کہا کہ امریکہ اور بھارت بلوچستان میں سازش کررہے ہیں اور وہاں لوگوں کو قتل کرکے الزام ملک کے خفیہ اداروں پر لگایا جا رہا ہے تاکہ خفیہ اداروں کو بدنام کیا جاسکے۔ مقررین نے کہا کہ وہ بلوچستان پر غیروں کی یلغار روکیں گے اور بلوچ بھائیوں کے آنسو پوچھیں گے۔ انہوں نے بلوچ قوم پرستوں کو کوئٹہ میں کونسل کے تحت ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

مقررین نے غربت، مہنگائی، بیروزگاری، سوئس مقدمات اور مبینہ کرپشن جیسے معاملات کے حوالے سے حکومت پر تنقید بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کیری لوگر بل کے ذریعے فوج پر دباؤ ڈلوانے کی کوشش کی۔

انہوں نے شدت پسندی کے الزام میں امریکی عدالت سے سزا پانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا اور ایک ایسی عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کے لیے بنا تھا اب ملک میں شریعت نافذ کرکے خلفائے راشدین کا نظام قائم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو کی سپلائی لائن کی بحالی روکنے کے لیے ہر قدم اٹھائیں گے۔

جلسےسےخطاب کرتےہوئے جمیعت علمائے اسلام کے مولانا حامد الحق نے کہا کہ اگر یہی حالات رہے تو پاکستان کے ہر گھر سے اسامہ نکلے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کانفرنس میں اہلِ سنت و الجماعت کے کارکن سب سے زیادہ نظر آئے۔

مقررین نے زور دیا کہ پاکستان کو سیکولر ریاست بننے سے بچانا ہوگا۔ انہوں نے افغانستان میں طالبان سمیت تمام مزاحمتی قوتوں کی اخلاقی حمایت کا عزم کیا۔ اس موقع پر جلسے کے شرکاء نے طالبان اور ان کے امیر مُلا محمد عمر کے حق میں نعرے لگائے۔

منتظمین کے مطابق جلسہ گاہ میں پچاس ہزار نشستیں لگائی گئی تھیں۔ جلسے کی ذمہ داری جماعت الدعوۃ کے کارکن انجام دے رہے تھے۔ جبکہ بیس گھڑ سوار کارکنان بھی حفاظت کے لیے موجود تھے۔ گزشتہ جلسوں کے برخلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی انتہائی کم تعداد اس جلسے میں تعینات تھی۔

اسی بارے میں