’بھارت کشمیر چھوڑ دے تو سب مسائل ختم‘

جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید نے کہا ہے کہ بھارت کو پاکستان پر شدت پسندی میں ملوث ہونے کے الزمات لگانے کی بجائے اپنے داخلی معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بھارت کو کشمیر سے اپنا قبضہ چھوڑنا چاہیے اور اگر بھارت کشمیر چھوڑ دے تو سارے مسئلے حل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے بھارت کو تجارت کے لیے سب سے زیادہ ترجیح والے ملک کا درجہ دیے جانے کے پاکستانی فیصلے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس سے پاکستان کو سوائے نقصان کے کچھ نہیں ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت ضروری ہے لیکن اس کے لیے پہلے بھارت کشمیر سے اپنا قبضہ ختم کرتے ہوئے جارحانہ رویہ ترک کرے۔

حافظ سعید نے کہا کہ پاکستان میں کوئی دہشت گرد نہیں ہے، نہ اس کی کوئی حقیقت ہے اور نہ بھارت کے پاس اس کا کوئی ثبوت ہے لیکن افسوس ہے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے تو پاکستان پر الزام لگا دیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان میں ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جو بھارت پر حملہ کرے۔ بھارت کو اپنا رويہ ٹھیک کرنا چاہیے اور اپنے داخلی معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔

پاکستان اور بھارت کے تعقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی حمایت کرتے ہیں اور مسائل کو حل کرنے کے لیے مل کر بیٹھنا چاہیے، نتائج پر پہنچنا چاہیے۔ یہ بات بہت ضروری ہے لیکن بھارت کا رویہ بہت ہی جارحانہ ہے‘۔

حافظ سعید نے کہا کہ ’بھارت نے پہلے تو كشمیر پر صرف فوجی قبضہ کیا ہوا تھا اور وہ اب اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ بات چیت ضروری ہے لیکن بھارت ایسا قدم اٹھائے جس سے لگے کہ وہ پاکستان کا دشمن نہیں بلکہ اس کا دوست ہے‘۔

انہوں نے کہا، ’ہم بھی چاہتے ہیں دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہونے چاہیئیں اور ہم بھی لڑائی کے حامی نہیں ہیں کیونکہ لڑنے سے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔بھارت کشمیر کو کیوں نہیں چھوڑتا، آخر وجہ کیا ہے؟ کیا آزادی ان کا حق نہیں ہے‘۔

ان کے مطابق بھارت کشمیر کو چھوڑ دے تو تمام مسائل ختم ہو جائیں گے۔’اگر بھارت اپنا فوجی قبضہ جاری رکھے گا اور تشدد کا راستہ اختیار کرے گا تو پاکستان اس کے ہر قدم کو تسلیم نہیں کرے گا۔ کیا بھارت کے کسی حصے یا علاقے پر پاکستان نے قبضہ کیا ہے؟ نہیں کیا‘۔

کشمیر میں ہونے والی دراندازی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’بھارت ہمیشہ پروپیگنڈہ کرتا رہتا ہے اور شور مچاتا رہتا ہے۔ اگر وہ دراندازی کی بات کرتا ہے تو سربجیت سنگھ کہاں سے آیا تھا، پاکستان میں سینکڑوں ایسے معاملے سامنے آئے ہیں اور کئی بھارتی شہری جیلوں میں بند ہیں، جنہوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر سرحد پار کی تھی‘۔

ان کے مطابق اگر کشمیر کے لوگ ایک دوسرے کے پاس آتے ہیں اور جاتے ہیں تو یہ دراندازی بالکل نہیں ہے کیونکہ وہ بین الاقوامی سرحد نہیں ہے بلکہ کنٹرول لائن ہے۔

حافظ سعید اسے دراندازی نہیں مانتے ’کیونکہ کشمیر ایک ہے۔ دراندازی تو وہ ہے جو بین الاقوامی سرحد پار کر بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان میں کیا تھا اور پھر مشرقی حصے کو پاکستان سے الگ کر دیا‘۔

ممبئی حملوں پر پوچھے گئے سوال پر حافظ سعید نے کہا کہ ’بھارت نے ممبئی حملوں کے سلسلے میں حکومتِ پاکستان کو کئی بار ثبوت بھیجے ہیں، جب وہ یہاں آئے تو پاکستان کی عدالتوں میں وہ سب کچھ پیش کیا گیا۔ تقریبا چھ ماہ تک لاہور ہائی کورٹ میں یہ معاملہ چلتا رہا اور عدالت نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کی کوئی تنظیم اس میں ملوث نہیں ہے اور جماعت الدعوۃ کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے‘۔

انہوں نے حکومتِ پاکستان کے بھارت کو ایم ایف این درجہ دینے کے فیصلے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ بھارت پاکستان کو صرف ایک راستے کے طور پر استعمال کرے گا اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ معاملہ اس طرح رہا تو یہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

حافظ سعید نے کہا، ’اس پر ہمیں بہت تشویش ہے کیونکہ یہ عام تجارت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ درجہ دے کر پاکستان کو بھارت کی منڈی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے اندر سے اس کے کنٹینر گزریں گے اور افغانستان اور وسطی ایشیاء تک پہنچنے کا اس کے لیے راستہ بنایا جا رہا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کی اب تک تجارت اس کے لیے خسارے کا سودا رہی اور تجارت اگر برابری کی بنیاد پر ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

دفاعِ پاکستان کونسل کی تشکیل کے بارے میں سوال پر حافظ سعید نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے ہی خطرات کی زد میں رہا ہے لیکن خاص طور پر اب دفاع کے حوالے سے صورتحال کافی تشویش ناک ہے، امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان کےلیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، ’پہلے ڈرون حملے کیے گئے، اس کے بعد سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا اور پھر ڈرون حملوں کا جاری رکھنا، یہ چیزیں بہت بڑے خدشات پیدا کر رہی ہیں اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کا ایجنڈہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرے اور وہ پاکستان کو ایٹمی قوت سے محروم کرے۔’

انہوں نے کہا کہ بھارت نے بھی پاکستان کے خلاف ہمیشہ سے منصوبے بنائے اور سازشیں کیں، مشرقی پاکستان کو علیحدہ کیا اور بعد میں پاکستان میں اپنے خوفناک منصوبے جاری رکھے خاص طور پر نائن الیون کے بعد جب امریکہ افغانستان میں آیا تو اس کے بعد بھارت کو پاکستان کے خلاف اپنے منصوبے بروئےکار لانے کا موقع ملا۔

اسی بارے میں