’مسنگ پرسن‘ انکل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قدیر بلوچ کو اپنے بیٹے کی لاش پر لگا ہوا ایک ایک زخم یاد ہے۔

نہ آنسو نہ آہیں۔ نہ گالی نہ طعنے۔ اپنے بیٹے کی سفاکانہ ہلاکت کے ڈھائی مہینے بعد قدیر بلوچ وہی کر رہے ہیں جو بیٹے کی ہلاکت سے پہلے کر رہے تھے۔

جلیل ریکی کو فروری 2009 میں اغوا کیا گیا۔ قدیر بلوچ نے اغوا کی ایف آئی آر ایف سی اور آئی ایس آئی کے سربراہ وغیرہ، کے خلاف درج کروائی۔ غائب کر دیے جانے والے دوسرے بلوچ نوجوانوں کے خلاف مل کر ایک تنظیم بنائی اور اُن کی بازیابی کے لیے احتجاج شروع کر دیا۔

گزشتہ نومبر کو جلیل ریکی کی مسخ شدہ لاش تربت سے ملی اور جب تک قدیر بلوچ نے لاش اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لی انہیں یقین نہیں آیا کہ ان کا بیٹے ہلاک کر دیا جائے گا۔’میرا ذہن نہیں مانتا تھا کہ وُہ اُسے مار دیں گے۔ اُنہوں نے اِتنا عرصہ جلیل کو قید میں رکھا۔ تشدد کیا، تفتیش کی میرا خیال تھا اب اُس کو کیوں ماریں گے‘۔

جب تک جلیل ریکی غائب تھے قدیر بلوچ کی امید زندہ تھی۔ اُنہیں کبھی کبھار جلیل کے بارے میں خبر بھی ملتی رہتی تھی۔ اگر چہ اُنہیں علیحدہ علیحدہ کال کوٹھڑیوں میں رکھا گیا تھا لیکن وہ نماز کے وقت اذان دیتے تھے اُنھوں نے اپنی باری لگا رکہی تھی اور ہر اذان کے بعد وہ اونچی آواز میں اپنا نام پکارتے تاکہ دوسرے قیدیوں کو پتہ چل جائے کہ وہ زندہ ہیں اور اگر قسمت یاوری کرے اور کبھی چھوٹ جائیں تو قیدی کے گھر والوں کو جاکے بتا سکیں کہ آپ زندہ ہیں۔

قدیر بلوچ نے اس طرح سے کئی بار سنا کہ جلیل ریکی نے اذان دی اور اس کے بعد اپنا نام پکارا۔ احتجاجی کیمپ لگانے کے ساتھ ساتھ عدالتوں میں رجوع کیا، تاریخیں بھگتیں لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔

ایک ٹریبونل کی کاروائی کے دوران ایک کرنل قدیر بلوچ کے پاس آیا اور کہا کہ آپ پر ہمیں بڑا ترس آتا ہے، آپ بوڑھے آدمی ہیں، شریف بھی لگتے ہیں۔ قدیر بلوچ نے کہا کہ اگرمجھ پر ترس آتا ہے تو میرے بیٹے کو رہا کروا دو۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

کرنل نے کہا کہ اگر آپ کا بیٹا واقعی سیاسی کارکن ہے تو وہ واپس آجائے گا۔ قدیر بلوچ کا یقین اور پختہ ہو گیا کہ ان کا بیٹا زندہ واپس آئے گا۔ نومبر کے آخری ہفتے میں قدیر بلوچ کے بیٹے کی لاش تربت کے قریب ملی۔

علاقے کے اسسٹنٹ کمشنر نے فون کیا اور کہا کہ ہم آپ کے بیٹے کی لاش بھجوارہے ہیں۔ قدیر بلوچ نے کہا، نہیں۔ آپ کا کام تھا اسے اغوا کرنا، اُسے قتل کرنا، وہ کام آپ نے کردیا۔ اب باقی کام میں خود کرلوں گا۔

قدیر بلوچ نے ایمبولینس کا بندوبست کیا اور لاش منگوائی۔

آخر جلیل ریکی کو کیوں قتل کیا گیا؟

قدیر بلوچ کے پاس اس کا جواب خود موجود ہے۔

اس کی ہلاکت سے چند دن پہلے چمالانگ میں فوج کی ایک چوکی پر حملہ ہوا جس میں کئی فوجی شہید ۔۔۔۔ قدیر بلوچ شہید کہتے رک جاتے ہیں اور کہتے ہیں فوجی ہلاک ہوئے۔ اُنہوں نے اِس حملے کا بدلہ لینا تھا۔ اُنہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ حملہ کس نے کیا۔

قدیر بلوچ کو اپنے بیٹے کی لاش پر لگا ہوا ایک ایک زخم یاد ہے۔ اور وہ ان کی تفصیل انتہائی غیر جذباتی انداز میں بتاتے ہیں۔ اس کا بایاں ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا۔ دایاں بازو پورا جلا ہوا تھا اور اُس کی پشت پر جلائے جانے کے کئی چھوٹے چھوٹے داغ تھے۔ قدیر بلوچ نے اس کی لاش کی وڈیو بنوائی تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔

قدیر بلوچ گزشتہ چالیس دن سے کراچی میں احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھے ہیں، اِس امید پر کہ شاید یہاں کہ شہری اور میڈیا اُن کی بات حکام تک پہنچا سکیں۔ صحافی عام طور پر اُن سے کنّی کتراتے ہیں لیکن اگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے چار لوگوں کا جلوس بھی نکلے تو کیمرہ مینوں کاایک ہجوم اکھٹا ہوجاتا ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی اس سے زیادہ ریاست کے جبر کا شکار ہوئی ہیں لیکن ان کے حامی ہر شعبہ زندگی میں موجود ہیں۔ بلوچ کارکنوں کی سننے والا کوئی نہیں۔

احتجاجی کیمپ میں ایک تیرہ سالہ بچی بھی موجود ہے جس کے ڈاکٹر والد تین سال سے لاپتہ ہیں۔ بچی قدیر بلوچ کو مسنگ پرسن انکل کہ کر مخاطب کرتی ہے۔

اپنے بیٹے کی ہلاکت کے بعد خود قدیر بلوچ نے اپنے ساڑھے چار سالہ پوتے کو جلیل ریکی کی لاش دکھائی۔ جلیل کی ایک آنکھ بُری طرح مسخ تھی۔ قدیر بلوچ کے پوتے نے پوچھا ڈیڈی کی آنکھ کس نے ایسی کی ہے۔ قدیر بلوچ نے بتایا ایجنسیوں نے۔ پوتے نے پوچھا کہ ایجنسیاں کون ہیں؟ قدیر بلوچ نے اُسے ایجنسیوں کے بارے میں بھی بتایا۔

اسی بارے میں