’حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں بڑا مسئلہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جس قیادت کو عوام نے منتخب کیا ہے ہم اس کی تائید کریں گے:کیمرون منٹر

پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے بارے میں امریکہ کا موقف واضح ہے لیکن وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر حکومتِ پاکستان سے بات کی جانی چاہیے لیکن امریکہ کا اس سے آگے بڑھ کر ایسا کچھ کرنے کا ارادہ نہیں ہے جس سے پاکستان میں کسی قسم کا عدم استحکام ہو۔

کراچی میں بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کیمرون منٹر نے پچھلے دنوں امریکی کانگریس میں بلوچستان کے بارے میں مباحثے پر موقف اختیار کیا کہ کانگریس میں ایسا ہونا ایک عام بات ہے اور وہاں کوئی بھی بات کرسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی حکومت کا کانگریس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے کانگریس میں بلوچستان کے معاملے پر بحث پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا تھا اور وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بلوچستان میں بین الاقوامی سازش کی جارہی ہے۔

کیمرون منٹر کا کہنا تھا کہ جہاں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے وہاں امریکہ اپنی تشویش ظاہر کرتا ہے اور اس کا تعلق وزراتِ خارجہ سے رہتا ہے جس کو وہ اپنے تمام خیالات سے آگاہ کرتا ہے۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے بار بار اس بات کو دہرایا کہ امریکہ پاکستان میں جمہوری نظام کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس قیادت کو عوام نے منتخب کیا ہے ہم اس کی تائید کریں گے اور اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ادارے کامیاب ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پچھلے چند ہفتوں میں ہونے والے واقعات کا بغور جائزہ لیں تو کئی لوگ، فوج، عدلیہ اور پارلیمنٹ میں لڑائی کی باتیں کر رہے ہیں مگر یہاں پارلیمنٹ مستحکم ہے، عدلیہ مضبوط ہے اور ایگزیکٹو بھی طاقتور ہے۔

کیمرون منٹر کے بقول ’میرا خیال ہے کہ یہاں کے لوگ ایک امتحان سے گزر رہے ہیں اور ان کو ایسے مزید امتحانات سے گزرنا پڑے گا۔ پاکستان کے دوست ملک مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ یہاں جمہوری ادارے کس طرح سے کام کر رہے ہیں۔‘

کیمرون منٹر کے مطابق فوج ہر ملک کی ضرورت ہے اور پاکستان میں بھی ان اداروں کا آپس میں مل کر کام کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے اور عدلیہ، حکومت اور فوج پر بات کی جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ جمہوریت فروغ پا رہی ہے۔

امریکی شہری منصور اعجاز کے کردار کے بارے میں کیمرون منٹر کا کہنا تھا کہ میمو گیٹ سکینڈل پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ پاکستان اس کو خوش اسلوبی سے نمٹائے گا۔

انہوں نے کہا ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی بڑا معاملہ نہیں بنےگا۔ ہم دوسرے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں جو دو طرفہ معاملات کے لیے اہم ہیں ویسے ہی لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ بہت مداخلت کرتا ہے امید ہے کہ پاکستان اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے نمٹائے گا۔‘

امریکی سفیر سے جب یہ پوچھا گیا کہ تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان اگر وزیرِاعظم منتخب ہوئے تو کیا امریکہ کے ساتھ وہ کام کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ہر اس شخص کے ساتھ کام کرے گا جو جمہوری نظام سے منتخب ہوکر آتا ہے اور وہ ہر اس اپوزیشن رہنما کے ساتھ بھی کام کرنے کو تیار ہے جو جمہوریت کے حق میں ہے۔

’میں عمران خان سے ملاقات کرچکا ہوں اور انھوں نے کچھ اصلاحات اور پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے اپنے خیالات بیان کیے۔ ہم ان کے ساتھ ’اوپن‘ ہیں جس طرح ہم موجودہ حکومت کے ساتھ اوپن ہیں۔‘

افغانستان میں قیام امن کے بارے میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں افغان قیادت کی کوششوں سے امن قائم کیا جائے۔’خوشخبری یہ ہے کہ امریکہ اور پاکستان میں اس پر اتفاق ہوگیا ہے اگر افغانستان کسی سیاسی حل کے ساتھ بین الاقوامی فورم پر آتا ہے تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد افغانستان میں مفاہمت کا سلسلہ رک گیا ہے مگر اس کے باوجود وہ پاکستان کو تمام پیش رفت سے آگاہ کرنے کے پابند ہیں۔ تاہم ایک مرتبہ پاکستان کی پارلمینٹ میں اس معاملے پر بحث ہوجائے یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوجائے گا۔

’ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ افغان کیا چاہتے ہیں۔ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان، امریکہ اور دیگر دوست ممالک اس سلسلے میں ان کی کیا مدد کرسکتے ہیں۔‘

قطر میں طالبان سے جاری مذاکرات کے بارے میں امریکی سفیر نے کہا کہ یہ مذاکرات ابھی ابتدائی مراحل پر ہیں مگر اس کی قیادت افغانستان کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر میں اگر کوئی کامیابی ملتی ہے تو یہ افغانستان کی قیادت میں ہوگی۔

منٹر کے مطابق ان کے خیال میں ان مذاکرات کی پاکستان بھی حمایت کرتا ہے اور افغانستان جانتا ہے کہ مذاکرات میں پاکستانی شمولیت ضروری ہے کیونکہ پاکستان کی اس خطے میں بڑی اہمیت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں منٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان اگر یہاں موجود طالبان یا حقانی نیٹ ورک سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو انہیں بتائے۔ ’وہ جس بھی معاملے پر مذاکرات چاہتے ہیں اسے ٹیبل پر لیکر آئیں‘۔

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ اتحادی افواج ایساف اور پاکستان میں منظم فوجی رابطہ ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں سلالہ جیسے واقعات رونما نہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا ’ہمیں مشترکہ دشمنوں کے خلاف مشترکہ اقدامات اٹھانے چاہییں۔ پچھلے دنوں طورخم پر امریکی، پاکستانی اور افغانی فوجی حکام کے اس حوالے سے مذاکرات ہوئے ہیں۔‘

امریکی سفیر نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد بھی القاعدہ کو غیر مسلح کرنے اور اسے ختم کرنے کا عزم برقرار رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ امریکہ اور پاکستان کے لیے خطرہ ہے اور اس حوالے سے وہ پاکستان کے سویلین، فوجی اور انٹیلیجنس حکام سے مسلسل مذاکرات کرتے رہے ہیں تاکہ جس حد تک ممکن ہو تعاون کیا جاسکے۔

کیمرون منٹر نے موجودہ حکومت کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی اپنی جنگ ہے اور یہ امریکہ کی جنگ نہیں۔

’تخریب کار، لوگوں پر حملہ کر رہے ہیں، مزاروں میں دھماکے کر رہے ہیں تاہم یہ جنگ امریکہ سے نہیں ملی ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ یہ جنگ جیتیں گے۔ ہم اپنی طرف سے بھرپور مدد کر رہے ہیں۔ ہم نے کئی بلین ڈالر امداد فراہمی کی ہے آپ کی فوج اور آپ کےاداروں میں یہ رقم پچاس پچاس فیصد خرچ کی ہے۔‘

پاکستان میں ڈرون حملوں پر بات کرنے سے انہوں نے معذرت کی اور کہا کہ ’سفیر کئی باتیں جانتا ہے مگر بولتا نہیں ہے جیسے صحافی بہت کچھ بولتا ہے جس کا اسے علم نہیں ہوتا‘۔

مسٹر منٹر کا کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد بھی پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات نظر آتے ہیں۔ ان کی دلچسپی کا مرکز ان چیزوں پر ہوگا جن سے دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہوں۔

انہوں نے کہا ’ہم فیصل آباد میں خاص زرعی مرکز کے قیام کا ارادہ رکھتے ہیں اور خیبر پختونخوا میں یونیورسٹی بنانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح این جی اوز کے ساتھ تعلقات برقرار رہیں گے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ لوگوں کا لوگوں سے رابطہ ہو۔ ہم سماجی تعلقات بنانا چاہتے ہیں۔‘

کیری لوگر بل کے ذریعے فراہم کی گئی امداد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی لوگوں نے یہ بات کی ہے کہ انہیں معلوم نہیں ہے کہ یہ امداد کہاں جا رہی ہے اس لیے انہیں اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو اس بارے میں علم ہو۔

کیمرون منٹر کا کہنا تھا ’سیلاب کے بعد ہم ہزاروں سکولوں کی تعمیر کر رہے ہیں اور ہزاروں کلاس روم بناکر دے رہے ہیں۔ سندھ میں متاثرہ سکولوں کی تعمیر کے بعد بچے دوبارہ سکول جا سکیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل یہاں کے بچے اور تعلیم ہیں اور ہم اس پر مطمئن نہیں ہیں۔ہم کچھ اور بھی کرنا چاہتے ہیں جیسے ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ پاکستان کو ’ڈو مور‘ کہتا ہے۔‘

ایران کے ساتھ پائپ لائن پر تحفظات ہیں جس کا اظہار کرتے رہے ہیں توانائی کا بحران حل کرنے میں معاونت کرنا چاہتے ہیں کہ کیسے پیداوار بڑھائی جائے اور کیسے اس کا درست استعمال ہو۔ ایران کے بجائے ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان پائپ لائن منصوبہ بہتر ہے، کیونکہ یہ خطے کی بہتری کے لیے ہے تاہم اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘

امریکی سفیر کا خیال تھا کہ پاکستان کے لوگ کھلے دل و دماغ اور برداشت کی قوت کے حامل ہیں’جب لوگ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی بات کرتے ہیں تو میں ان خوبیوں کی بات کرتا ہوں جو امریکہ کے لوگوں میں بھی موجود ہیں۔ʻ

مسٹر کیمرون منٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ کراچی قونصلیٹ کی پرانی عمارت میں قائم لائبریری کو دوبارہ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے مگر اب یہ کسی اور جگہ پر ہوگی۔ اس کے لیے ایک کٹھن طریقہ کار سے گزرنا پڑ رہا ہے مگر وہ پرامید ہیں کہ کراچی کے لوگوں کو یہ سہولت دستیاب ہوجائے گی۔

اسی بارے میں