قائد اعظم کے مزار پر جہادی میلہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان دفاع کونسل کے اس جلسے میں لہجے اور الفاظ کے چناؤ کے علاوہ تقاریر کے موضوع تقریباً یکساں تھے

پاکستان میں مزاروں پر میلے لگتے رہتے ہیں، تھوڑے بہت فرق کے ساتھ تمام میلوں کا رنگ یکساں ہوتا ہے، مگر پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے مزار کے آس پاس اتوار کو جس میلے کا سماں تھا وہ ذرا مختلف تھا۔

جس محمد علی جناح نے پاکستان میں جدید اسلامی نظام کا پرچار کیا تھا، ان کے مزار کے قریب کھلے میدان میں طالبان کے نظام کی حمایت کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اس نظام کا نفاذ ہی راہِ نجات اور مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔

ایک مقرر نے محمد علی جناح کی بیٹی دینا جناح کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ جب دینا نے ایک ہندو سے شادی کی خواہش ظاہر کی تو محمد علی جناح نے انہیں ایسا کرنے سے روکا اور کہا وہ چاہیں کسی سے بھی شادی کرلیں مگر وہ کسی ہندو سے شادی کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے۔ اِس مثال کے ذریعے وہ محمد علی جناح کی ہندؤوں کے بارے میں سوچ کی عکاسی کرنے کے خواہش مند تھے۔

نمائش چورنگی پر واقع عالمی مجلس ختم نبوت کے دفتر کے قریب سے ہی اس میلے کی رونقوں کا ظہور ہورہا تھا، جہاں جہاد میں یقین رکھنے والی تنظیموں کے کیمپ موجود تھے اور جہاد کیوں ضروری ہے جیسے موضوع پر کتب دستیاب تھیں۔

معدے اور دماغ دونوں کی خوراک اس میلے میں دستیاب تھیں، حلیم کے ٹھیلے، بریانی کے تنبو، منرل واٹروں کے سٹال، مٹھائی اور کیک کی تھال میں فروخت کرتے ہوئے نوجوان نظر آئے جبکہ کچھ بزرگ مسواک، ٹوپیاں، تسبیح اور الکوحل سے پاک خوشبو فروخت کر رہے تھے۔ ہر پتھارے یا سٹال پر کسی نہ کسی جہادی تنظیم کا جھنڈا ضرور لگا تھا۔

زمین پر کالعدم تنظیم سپاہِ صحابہ کے بیجز، کلینڈر، سٹیکر بھی فروخت کیے جارہے تھے، سٹیکروں کے ساتھ موبائل ٹیلیفون کے پاؤچ پر وہ ہی عبارت تحریر تھیں جو اس تنظیم کی فکر کی عکاسی کرتی ہے۔

بعض مقامات پر ویڈیو سی ڈیز اور ایم پی تھری سی ڈیز بھی دستیاب تھی، جن پر انڈیا میں لشکر طیبہ کی کارروائیاں ترانوں کے ساتھ، انڈیا میں فدائی کارروائیاں، افغانستان میں جنداللہ کی کارروائیاں اور خصوصی تربیت کے ٹائٹل تحریر تھے۔ تیس رپے فی سی ڈی حاصل کی جاسکتی تھی۔ ان میں سے کچھ ایسی سی ڈیز بھی تھیں جو کراچی میں سی آئی ڈی پولیس کسی بھی جہادی کے ساتھ برآمد کر کے یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ’ملزم سے جہادی مٹیریل کی سی ڈیز بھی برآمد ہوئی ہیںʻ۔

موبائل ٹیلیفون کے میموری کارڈ میں جہادی ترانے اور آیات ڈالنے کی بھی سہولت موجود تھی، مگر یہ بلامعاوضہ نہ تھا۔

نوجوانوں کے لیے کپڑے اور پیراشوٹ سے بنی ہوئی کمانڈو جیکٹس بھی دلچسپی کا باعث تھی، سٹال کے مالک کا کہنا تھا کہ چار سو اور چھ سو کے حساب سے وہ کئی جیکٹیں فروخت کرچکے ہیں۔

کلاشنکوف اور دیگر جدید اسلحے کی کی چین کا سٹال بھی نوجوانوں کے لیے کشش کا باعث رہا، جہاں ڈیڑھ سو روپے مالیت میں چار انچ کی کلاشنکوف کا مالک بنایا جارہا تھا۔

گزشتہ تین ماہ میں اسی میدان میں یہ چوتھا اجتماع تھا، اس سے پہلے جنرل پرویز مشرف کے جلسے کے علاوہ عمران خان، جمعیت علما اسلام کے مولانا فضل الرحمان اور پاکستان دفاع کونسل کے اس جلسے میں لہجے اور الفاظ کے چناؤ کے علاوہ تقاریر کے موضوع تقریباً یکساں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عمران خان اور مولانا فضل الرحمان کے جلسے میں گھڑ سوار پولیس اہلکار تعینات تھے مگر اس جلسے میں یہ ذمہ داری جماعتہ الدعوۃ کے حوالے تھی

ڈرون حملے، نیٹو کی رسد، ڈاکٹر عافیہ صدیقی، بھارت سے دوستی کی حکومتی خواہش، بلوچستان کی بے چینی سب کچھ وہ ہی تھا۔

جلسہ گاہ کے چاروں اطراف برجیاں بنائی گئی تھیں، جہاں جماعت الدعوۃ کے مسلح کارکن دوربینوں کی مدد سے نگرانی کرتے ہوئے نظر آئے، اس کے علاوہ دو درجن کے قریب کلوز سرکٹ کیمرے بھی نصب کیے گئے تھے۔ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان کے جلسے میں گھڑ سوار پولیس اہلکار بھی تعینات تھے مگر اس جلسے میں یہ ذمہ داری جماعتہ الدعوۃ کے حوالے تھی۔

مولانا فضل الرحمان کے جلسے کے مقابلے میں اس جلسے میں شرکاء کی تعداد قدرے محدود تھی، مولانا فضل الرحمان کے جلسے میں مدارس کے اساتذہ اور طالب علموں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی جو اس جلسے میں نظر نہیں آئی، جس سے یہ تاثر لیا جا رہا تھا کہ مدراس خود کو جہاد کی سوچ رکھنے والی ان تنظیموں سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔

کراچی میں جماعت اسلامی بھی ایک مؤثر موجودگی رکھتی ہے مگر اس کے کارکنوں کی شرکت محدود نظر آئی، جماعت کے ایک رہنماء کا کہنا تھا کہ یہ دانستہ طور پر کیا گیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کراچی میں طالبانائزیشن پر اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کرتی رہی ہے، آج بعض مقررین نے ایم کیو ایم کا نام لیے بغیر کہا کہ آکر دیکھیں یہ لوگ کوئی اور نہیں طالبان کا نظام چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں