توہینِ عدالت کا مقدمہ: ٹائم لائن

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم گیلانی کو توہین عدالت کیس میں قصوروار ٹہراتے ہوئے انہیں مجرم قرار دے دیا۔

عدالت نے وزیراعظم کو مجرم قرار دیتے ہوئے عدالت کے برخاست ہونے تک چند لحموں کی علامتی سزا دی۔

جمعرات چھبیس اپریل کو عدالت نے وزیراعظم کو قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او مقدمے میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر شروع کیے گئے توہین عدالت کے مقدمے میں یہ سزا سنائی۔

یوسف رضا گیلانی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلے وزیراعظم ہیں جن کے خلاف توہینِ عدالت کے مقدمے کی کارروائی اس حتمی مرحلے تک پہنچی۔

وزیراعظم گیلانی پر تیرہ فروری کو اس معاملے میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نواز شریف ایسے وزیراعظم ہیں جنہیں عدالت نے توہین عدالت کے مقدمات میں اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے تھے لیکن فردِجرم عائد نہیں کی گئي تھی۔

توہین عدالت کے مقدمےکی کارروائی کی ٹائم لائن کچھ اس طرح ہے۔

جنوری 2012

  • سولہ جنوری : سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں ’این آر او‘ عملدرآمد کیس میں وزیراعظم کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر کے انہیں انیس جنوری کو خود پیش ہونے کا حکم دیا۔
  • سترہ جنوری: وزیراعظم نے پارلیمان سے خطاب میں اعلان کیا کہ وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں اور انیس جنوری کو خود پیش ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تمام ادارے آئین کے ماتحت ہیں اور تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔ بعد میں وزیرِ اعظم نے اعتزاز احسن سے ملاقات کی اور انہیں اپنا وکیل مقرر کیا۔
  • انیس جنوری: وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اپنے وکیل اعتزاز احسن کے ہمراہ سات سو چھیاسی نمبر پلیٹ والی سفید لینڈ کروزر خود ڈرائیو کرکے عدالت پہنچے۔ عدالت نے انہیں آئندہ سماعت پر خود پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار دیا اور سماعت دو فروری تک ملتوی کر دی۔

فروری 2012

  • دو فروری: سپریم کورٹ کے تمام ججوں نے اعتزاز احسن کے دلائل مسترد کرکے وزیراعظم پر فرد جرم عائد کرنے کا حکم سنایا اور یوسف رضا گیلانی کو تیرہ فروری کو طلب کر لیا۔ اعتزاز احسن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ جرنیلوں کی توہین عدالت کا بھی نوٹس لے۔
  • آٹھ فروری : وزیراعظم نے فرد جرم عائد کیے جانے کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی اور عدالت سے استدعا کی کہ فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ رد کرکے نوٹس خارج کریں۔ سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ قائم کیا اور نو فروری سے اپیل کی سماعت کا اعلان کیا۔
  • نو فروری: سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ نے چیف جسٹس کی سربراہی میں انٹرا کورٹ کی اپیل کی سماعت کی اور اعتزاز احسن نے سہ پہر تک دلائل دیے۔ عدالت نے کہا کہ اگر وزیراعظم سوئس حکام کو مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے خط لکھ دیں تو نوٹس واپس اور توہین عدالت کا مقدمہ خارج کرتے ہیں۔ اعتراز احسن نے کہا کہ وہ یہاں لین دین کے لیے نہیں بلکہ میرٹ پر مقدمے کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ عدالت نے سماعت اگلے روز تک ملتوی کر دی۔
  • دس فروری: چیف جسٹس نے دلائل سننے کے بعد اعتزاز احسن کی اپیل خارج کرنے کا حکم سنا دیا۔
  • بارہ فروری: وزیراعظم نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ ‘مجھے ایسا نہیں لگتا کہ عدالت سزا دے گی‘۔
  • تیرہ فروری: سپریم کورٹ نے وزیراعظم پر فرد جرم عائد کردی اور فرد جرم سات رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ناصرالمک نے خود پڑھ کر سنائی۔ عدالت نے مزید کارروائی اٹھائیس فروری تک ملتوی کر دی۔
  • اٹھائیس فروری: سپریم کورٹ نے کابینہ ڈویژن کی سیکرٹری نرگس سیٹھی کو سات مارچ کو دفاع کی جانب سے گواہ کے طور پر طلب کر لیا۔ انہیں وہ سمریاں بھی پیش کرنے کو کہا ہے جو این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے انہیں بھجوائی گئی تھیں۔

مارچ 2012

  • آٹھ مارچ: سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت کے مقدمے میں وزیراعظم پاکستان کو انیس مارچ تک تحریری بیان جمع کروانے کا حکم دے دیا۔عدالت نے کہا کہ اگر وزیراعظم تحریری بیان جمع کروانا چاہتے ہیں تو انیس مارچ کو جمع کروا دیں تاکہ اکیس مارچ کو اس پر دلائل کا آغاز کیا جائے تاہم اگر وہ خود عدالت میں پیش ہو کر بیان دینا چاہتے ہیں تو اکیس مارچ کو عدالت میں آ سکتے ہیں۔
  • انیس مارچ: وزیراعظم کی جانب سے جمع کروائے جانے والے تحریری بیان میں کہا گیا کہ عدالتی احکام کی روشنی میں وہ صدر زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہیں لکھا جائےگا۔ تحریری جواب میں عدالت کے بنچ کے بارے میں بھی تحفظات ظاہر کیے گئے اور کہا گیا کہ وہاں ’منصفانہ کارروائی ممکن نہیں لگتی اور یہ کہ لگتا ہے کہ معزز عدالت نے مقدمے کے نتائج سے پہلے ہی اپنا ذہن بنا لیا ہے‘۔
  • اکیس مارچ:وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے سماعت کے دوران بنچ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ مقدمہ مس ٹرائل کی جانب جا رہا ہے۔
  • بائیس مارچ: اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بینچ نے ان کے مؤکل کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا اور اس کی حیثیت ایک شکایت کنندہ کی ہے اس لیے اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرنے والا بینچ اسی مقدمہ کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔

اپریل 2012

  • بارہ اپریل: سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ناصرالملک کا کہنا تھا کہ صدر زرداری کا عہدہ ختم ہونے تک خط لکھنے کا معاملہ اگر مؤخر کر دیا گیا تو پھر یہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔

  • سولہ اپریل: اعتزاز احسن نے کہا کہ این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کروانے کے لیے عدالتِ عظمیٰ مناسب فورم نہیں ہے اور اُن کے موکل کے خلاف کوئی بھی مدعی نہیں ہے۔
  • اٹھارہ اپریل: سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی ملک کے صدر یا سفارت کار کے خلاف فوجداری یا دیوانی مقدمے میں کارروائی بیرونی ملک کے دورے کے دوران نہیں ہو سکتی اور جس سربراہ کو استثنیٰ درکار ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ عدالت سے رجوع کرے۔

  • چوبیس اپریل: سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہینِ عدالت کے مقدمے میں فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے جمعرات چھبیس اپریل کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا اور وزیراعظم سے کہا کہ وہ اس موقع پر عدالت میں حاضر ہوں۔