منصور اعجاز کا بیان ریکارڈ کرنے سےمعذرت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لندن میں پاکستان کے سفارت خانے نے متنازع میمو کے معلاملے کے اہم کردار منصور اعجاز کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے انتظامات کرنے سے معذوری ظاہر کر دی ہے۔

پاکستان کے سفارت خانے میں بی بی سی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فروری کی بائیس تاریخ کو منصور اعجاز کا بیان ریکارڈ کیا جانا تھا اور ان ہی دنوں میں پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر بھی برطانیہ کے دو روزہ دورے پر لندن میں ہوں گی۔

سفارت خانے کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اسلام آباد کو مطلع کر دیا ہے کہ سفارت خانے کا عملہ ان دنوں میں وزیر خارجہ کے سرکاری دورے کی بنا پر مصروف ہو گا اس لیے منصور اعجاز کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے انتظامات نہیں کیے جا سکتے۔

امریکی شہری منصور اعجاز کو مبینہ طور پر پاکستان کے کسی اعلیٰ اہلکار کی طرف ایک متنازعہ میمو لکھے جانے کے معاملے پر پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا۔

کمیشن نے ایک مختصر حکم نامے میں کہا تھا کہ لندن میں پاکستانی سفارت خانے بائیس فروری کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منصور اعجاز کا بیان ریکارڈ کرانے کے انتظامات کرے۔

متنازع میمو کے معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائے جانے والے کمیشن میں بلوچستان کے چیف جسٹس قاضی فائض عیسی، سندھ کے ہائی کورٹ کے جج جسٹس مشیر عالم اور اسلام آباد کے جسٹس اقبال حمید الرحمان شامل ہیں۔ عدالتی کمیشن نے سیکریٹری راجہ جواد عباس کو بھی لندن جا کر منصور اعجاز سے متعلقہ دستاویزات اور آلات حاصل کرنے کا حکم دیا تھا۔

لندن میں پاکستانی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسلام آباد سے درخواست کی ہے کہ یا تو وزیر خارجہ کے دورے کی تاریخ یا پھر منصور اعجاز کا بیان ریکارڈ کرنے کی تاریخ بدل دی جائے۔