بلوچستان پر سماعت، قومی اسمبلی کی مذمتی قرارداد

تصویر کے کاپی رائٹ other

پاکستان کی قومی اسمبلی نے پیر کو اتفاق رائے سے امریکی کانگریس میں بلوچستان کے بارے میں عوامی سماعت کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

یہ قرارداد اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے پیش کی جس کی تمام جماعتوں نے ووٹنگ میں حمایت کی۔

البتہ بعض اراکین قومی اسمبلی نے اس کی منظوری سے قبل مخالفت کی اور کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے، بنگال جیسی صورتحال ہے اور حکومت کچھ نہیں کر رہی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے علاوہ دفتر خارجہ نے بھی اس سلسلے میں کارروائی کرتے ہوئے امریکہ کے چارج ڈی افیئرز رچرڈ ہوگلینڈ کو طلب کر کے بھرپور احتجاج کیا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ڈرونز حملے بند کرنے کے بارے میں جو قرارداد پاکستان کے پارلیمان نے منظور کی ہے اس سمیت تمام قراردادوں پرعمل کیا جائے اور پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کا احترام کیا جائے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ آرمی چیف نے بلوچستان میں فوجی آپریشن کی تردید کی ہے اور آئی جی ایف سی نے بھی وہاں لاپتہ افراد سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ ان کے بقول یہ اچھے بیانات ہیں لیکن حکومت یہ بتائے کہ بلوچستان میں بار بار الزام لگتا ہے کہ ایجنسیاں اٹھا کر لے گئی ہیں اس میں کون ملوث ہے؟

انہوں نے کہا کہ کشمیر ہو یا افغانستان یا پھر پاکستان کے قبائلی علاقے وہاں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، کیا اس کا نوٹس لیا گیا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے؟

جس پر پیپلز پارٹی کے ہمایوں عزیز کرد نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ پیچیدہ ہے اور اس قرارداد کی وجہ سے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سازش کے تحت بلوچ اور پنجاب کے عوام میں نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں ایجنسیوں کا کردار ایک سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان لاوارث ہے اور اگر کوئی چلے تو وہ انہیں بلوچستان کے ہر گھر لے جائیں گے جہاں جہاں مسخ شدہ لاشیں پہنچی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف اور آئی جی ایف سی کے بیانات درست نہیں۔

چوہدری نثار علی خان نے وضاحت کی اور کہا کہ انہیں بھی احساس ہے کہ بلوچستان میں صورتحال ٹھیک نہیں، لیکن اس کا جواب حکومت دے۔ ان کے بقول یہاں معاملہ پاکستان میں بیرونی مداخلت کا ہے۔

وفاقی وزیر چنگیز خان نے کہا کہ بلوچستان میں حالات خراب ہوگئے ہیں اور یہ ایک فوجی آمریت کے دور میں ہوئے اور اس کی ذمہ داری ان کے بقول مسلم لیگ پر ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کی بشریٰ گوہر نے کہا کہ کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت کی مخالفت تو ٹھیک ہے لیکن بلوچستان کے جو حالات ہیں اس پر حکومت کچھ نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ وہاں لاشیں مل رہی ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی محض مذمت کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان نے بلوچستان کے لیے کچھ نہیں کیا اور جتنی دیر کریں گے اتنا مسئلہ بنے گا۔

ایک موقع پر راجن پور سے حکومت کے حامی دوست محمد مزاری نے ہمایوں عزیز کرد کی تائید کی اور کہا کہ بلوچستان میں حالات بہت خراب ہیں اور بنگال جیسی صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرنٹیئر کور والے بلوچوں کی خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں اور پنجاب میں بلا اجازت چھاپے مارتے ہیں۔

اسی بارے میں