پاکستان، کمیونٹی ریڈیو کی ہمت افزائی نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ afp

پاکستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جہاں آج تک ایک بھی کمیونٹی ریڈیو لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کی تنظیم برائے ثقافت یونیسکو کے مطابق کمیونٹی ریڈیو سٹیشن کسی مخصوص کمیونٹی کو آگاہی دینے، اس کے مسائل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا حل بھی تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس ریڈیو سٹیشن کا مقصد منافع کمانا نہیں بلکہ کمیونٹی کی فلاح ہوتا ہے۔

کمیونٹی ریڈیو کوئی بھی ایک گروپ یعنی خواتین، بچے، کسان، مزدور، مچھیرے، یا کوئی بھی نسلی گروپ الگ الگ یا مل کر چلا سکتے ہیں۔

ریڈیو کا عالمی دن تیرہ فروری کو مانایا گیا۔ یونیسکو کی جانب سے اس دن کو منانے کا مقصد ریڈیو کی افادیت کے بارے میں آگہی پھیلانا، معلومات کے تبادلے کو سادہ اور آسان بنانا اور نشر کاروں کے درمیان رابطے بڑھانا ہے۔

پچھلے دو عشروں میں دنیا بھر میں کمیونٹی ریڈیو سٹیشنز کی تعداد اور مقبولیت میں تیزی سے توسیع دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کی وجہ شائد یہ ہے کہ عوام سرکاری اور تجارتی نشریاتی اداروں سے مطمئن نہیں ہیں۔

لیکن پاکستان میں آج بھی لوگ یہ نہیں جانتے کہ آخر کمیونٹی ریڈیو ہے کیا؟ امریکہ ہو یا یورپ یا پھر افریقہ حتیٰ کے ایشیا کے بھی بیشتر ممالک میں کمیونٹی ریڈیو قائم ہیں۔ برطانیہ میں ہر سال ماہ رمضان کے دوران اسّی سے زیادہ کمیونٹی ریڈیو لائسنس جاری کیے جاتے ہیں۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کے قوانین کمیونٹی ریڈیو سٹیشنز کے قیام کی اجازت دیتے ہیں۔ لیکن حکومت پاکستان اور پیمرا کی پالیسیاں کمیونٹی ریڈیو کی ہمت افزائی نہیں کرتیں۔

پاکستان پریس انٹرنیشنل کے تحت چلنے والے ریڈیو کے مدیر اعلیٰ نصیر اعجاز میمن کا کہنا ہے کہ پیمرا ایک بیوروکریٹک سیٹ اپ ہے اور اس کو خطرہ یہ ہے کہ اس قسم کے ریڈیو سٹیشنز حکومت یا ملک کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔ ’پیمرا کے ساتھ جو ہماری ملاقاتیں ہوئی ہیں ان میں پیمرا حکام نے کہا ہے کہ کہ دیکھیں جی سوات میں ملا فضل اللہ موٹر سائیکل پر ریّیو ٹراسمیٹر لیے پھرتا تھا۔ اسی لیے حکام کے دل میں خوف ہے۔‘

تاہم پیمرا کا کہنا ہے کہ کمیونٹی ریڈیو سٹیشنز امریکہ یا فرانس میں تو چل سکتے ہیں لیکن پاکستان میں ناقابلِ عمل ہے۔

پیمرا کے ترجمان فخرالدین مغل نے کہا ’امریکہ یا فرانس میں تو ان علاقوں میں کمیونٹی ریڈیو چل سکتے ہیں جہاں کوئی فسادات ہونے کا خطرہ نہ ہو لیکن پاکستان میں یہ چلانے ممکن نہیں۔ دیکھیں صوبہ خیبر پختونخوا میں مختلف مذہبی گروپوں اور فرقوں نے غیر قانونی ایف ایم سٹیشنز شروع کر لیے تھے ان پر ان پر اشتعال ناگیز تقاریر کی جاتی تھیں جن کے باعث سینکڑوں افراد کی ہلاکتیں ہوئی۔‘

کمیونٹی ریڈیو قدرتی آفات کی صورت میں متاثرہ علاقوں کے نشاندہی کرنے، علاقوں کی صورتحال اور آگاہی کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ سنہ دو ہزار پانچ کا زلزلہ ہو یا سنہ دو ہزار دس کے بدترین سیلاب کئی مثالیں موجود ہیں جہاں مختلف ایف ایم چینلز نے اپنے طور پر کمیونٹی ریڈیو کا کردار ادا کیا۔

تو کیا ایف ایم تینلز کمیونٹت ریڈیو کی کمی پوری کر سکتے ہیں؟ اس پر اعجاز میمن کا کہنا تھا کہ ایف ایم چینلز کمرشل ہیں اور وہ کمیونٹی ریڈیو کی جگہ نہیں لے سکتے۔ ’پاکستان شائد واحد ملک ہے جہاں ایف ایم چینلز کے لائسنس نیلام کیے جاتے ہیں۔ ایک ایک لائسنس لاکھوں اور کروڑوں میں نیلام ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں