پاکستان، سیاسی بحران کے کلیدی کردار

پاکستان میں سیاسی قیادت، فوج اور عدلیہ کے درمیان ٹکراؤ کے سبب ملک سیاسی بحران سےگزر رہا ہے اور اس میں میموگیٹ اور سیاسی رہنماؤں پر بدعنوانی کے مقدمات جیسے اہم واقعات شامل ہیں۔

موجودہ تناز‏عہ سے متعلق اہم کرداروں کا خاکہ بی بی سی نے آپ کے لیے تیار کیا ہے۔

صدر آصف علی زردآری

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن

زرداری صدر تو ہیں لیکن عوام میں مقبول نہیں ہیں

پاکستان کی سب سے متنازعہ سیاسی شخصیت صدر آصف علی زرداری کی ہے جن کے متعلق اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ محض اتفاق سے ملک کے صدر کے عہدے پر فائز ہوگئے۔ وہ اپنی اہلیہ اور ملک کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہمدردری کی لہر کی وجہ سے ستمبر دو ہزار آٹھ میں اقتدار میں آئے تھے لیکن جب سے وہ صدر کی کرسی پر براجمان ہوئے اس وقت سے سیاسی بحران جاری ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ صورت حال مزید غیر مستحکم ہوتی گئي۔

ان کی قیادت میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کے رشتے مزید خراب ہوتے گئے کیونکہ امریکہ مستقل یہ سوال اٹھاتا رہا ہے کہ شدت پسندی کے خلاف اسلام آباد مناسب کارروائی کر رہا ہے یا نہیں۔

آصف علی زرداری کا کریئر بدعنوانی کے الزامات سے بھی داغدار ہوتا رہا ہے اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ ان کے خلاف ایک مقدمہ دوبارہ شروع کرنے کی کارروائي میں ہے جس میں وہ پہلے ہی آٹھ برس جیل میں رہ چکے ہیں۔ اسی کیس کی مناسبت سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی دو بار عدالت میں طلب کیے جا چکے ہیں اور اب انہیں خود توہین عدالت کے مقدمہ کا سامنا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ صدر زرداری پاکستانی عوام میں بہت کم مقبول ہیں اور صحت کی خرابی کے سبب جب ملک کو اہم مسائل کا سامنا رہا ہے تب وہ چیک اپ کے لیے باہر جاتے رہے ہیں۔

حال ہی میں ان سے منسوب ایک اور معاملہ ’میمو‘ کا سامنے آیا جب اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر فوجی بغاوت کو روکنے کے لیے امریکہ سے مدد کی درخواست کی تھی۔ مسٹر زرداری اس الزام کو مسترد کر چکے ہیں لیکن اس کی تفتیش سپریم کورٹ کی نگرانی میں چل رہی ہے اور اگر وہ قصوروار پائے گئے تو ان کا مواخذہ بھی ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

وزیراعظم گیلانی فوج پر نکتہ چینی کرتے رہے ہیں

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو پاکستان کی سیاست میں خاموش مزاج رہنما خیال کیا جاتا ہے لیکن حالیہ دنوں میں وہ فوج پر کھلے عام نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔ دسمبر کے اواخر میں انہوں نے حکومت گرانے کی سازش کے متعلق یہ کہتے ہوئے خبر دار کیا تھا کہ ’ریاست میں ہی دوسری ریاست نہیں ہوسکتی اور سبھی پارلیمان کے سامنے جوابدہ ہیں۔‘ اس بیان کا اشارہ فوج کی طرف تھا لیکن فوج نے اس الزام کو فوری طور پر مسترد کر دیا تھا۔

لیکن اس کے چند روز بعد ہی مسٹر گیلانی نے میمو سے متعلق تفتیش میں حکومت کے خلاف ثبوت فراہم کرنے پر فوج اور آئی ایس آئی پر سخت نکتہ چینی کی اور جب فوج نے اس پر اپنے سخت رد عمل میں کہا ’اس سے ملک کے لیے سنگین نتائج بر آمد ہوسکتے ہیں‘، تو انہوں نے اپنے سیکریٹری دفاع کو برطرف کر دیا۔

اسی دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کے خلاف بد عنوانی سے متعلق کیس دوبارہ نا کھولنے کی پاداش میں انہیں وزارت عظمی کے عہدے کے لیے نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس محمد افتخار چوہدری

،تصویر کا ذریعہOther

،تصویر کا کیپشن

چیف جسٹس پر الزام ہے کہ وہ کارروائی خاص افراد کے خلاف کرتے ہیں

پاکستان کے چيف جسٹس محمد افتخار چوہدری موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ وہ ان ججوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے جنرل پرویز مشرف کے اقتدار پر سوال اٹھائے تھے اور جنہیں مسٹر مشرف نے سن دو ہزار سات میں برطرف کر دیا تھا۔ ان کی بحالی کے لیے وکلاء نے ایک طویل تحریک چلائی جس کے بعد مارچ سنہ دو ہزار نو میں انہیں دو بارہ بحال کیا گيا تھا۔

چيف جسٹس کو ملک میں ایک وقت تک قانون کی پاسبانی کے لیے بڑی احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا رہا اور تاریخ میں پہلی بار کسی فوجی جنرل کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ان کی تعریف بھی ہوتی رہی ہے۔ لیکن اب ان پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ بعض خاص لوگوں کے خلاف ہی کارروائي کرتے ہیں۔

پاکستان کی سپریم کورٹ تاریخی طور پر فوجی بغاوتوں کی حامی رہی ہے لیکن افتخار چوہدری نے ایسا نہیں کیا۔ لیکن بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور آئی ایس آئی کے خلاف بدعنوانی کے عدالتی کارروائي میں انہوں نے کچھ زیادہ ہی سخت رویہ اپنایا ہے۔ عدالت میمو اور بدعنوانی کے کیس کے حوالے سے اس وقت حکومت کے پیچھے پڑی ہے۔ اب لگتا ایسا ہے جیسے فوج عدالت کی پشت پناہی کر رہی ہو تاکہ عدالت حکومت کو برطرف کر دے۔