لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

فوج کے خفیہ اداروں کی تحویل میں اڈیالہ جیل کے باہر سے اغوا ہونے والے سات افراد کو پیر کے روز سپریم کورٹ میں پیش کر دیا گیا۔

اُنتیس مئی سنہ دوہزار نو میں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے عدم ثبوت کی بنا پر رہا ہونے والے گیارہ افراد کو خفیہ اداروں کے اہلکار اڈیالہ جیل کے باہر سے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے بعدازاں عدالت کو بتایا گیا کہ یہ افراد فوج کی تحویل میں ہیں۔

ان خفیہ اداروں کے وکیل کے بقول گیارہ میں سے چار افراد مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوکر ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ان سات افراد میں شامل محمد مظہر الحق کا کہنا تھا کہ گیارہ میں سے چار افراد کو پشاور میں واقع ایک حراستی مرکز میں تشدد کر کے ہلاک کیا گیا۔

عدالت نے متعلقہ سرکاری افراد کو ان سات افراد کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور اُن کے خلاف مقدمات کی فہرست ان مقدمات کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق عدالت عظمی میں رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بھی بتایا جائے کہ یہ افراد کہاں پر تھے اور اُنہیں کس قانون کے تحت حراست میں رکھا گیا۔

ان افراد کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو اُن کے چہروں پر خوف واضح نظر آرہا تھا اور ان میں سے زیادہ افراد تشدد کی وجہ سے صحیح طریقے سے چل نہیں پا رہے تھے۔ عدالتی حکم پر ان افراد کے ورثاء کی اُن سے ملاقات کروائی گئی۔

عدالت نے فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس کے وکیل راجہ ارشاد سے کہا کہ وہ تحریری طور پر عدالت میں جواب جمع کروائیں کہ عدالتی حکم کے باوجود ان افراد کو دس فروری کو عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا گیا۔

خفیہ اداروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے تین افراد کو پاڑا چنار سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد نہیں لایا جاسکا۔ اُنہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی خصوصی ہدایت کی روشنی میں ان افراد کو عدالت عظمٰی کو پیش کیا گیا۔

عدالت نے صوبہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری سے کہا کہ چونکہ چار افراد پہلے ہی لیڈی ریڈنگ ہستپال میں ہیں اس لیے باقی تین افراد کو بھی اُسی ہسپتال میں رکھا جائے اور اُن کی صحت سے متعلق ہر چار روز کے بعد سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو آگاہ کیا جائے۔

خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ ان سات افراد میں سے چار افراد کو چھبیس جنوری کو صوبائی حکومت کے حوالے کردیا گیا جس کے بعد اُنہیں ایک سو بیس روز تک حراست میں رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے جبکہ تین افراد جو پاڑاچنار میں واقع فوج کے تفتیشی مرکز پر ہیں اُن کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری سے استفسار کیا کہ کیا وہ صرف شہری علاقوں کے چیف سیکرٹری ہیں یا فاٹا کا علاقہ بھی اُن کے کنٹرول میں آتا ہے جس پر چیف سیکریٹری کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقہ بھی اُنہی کی حدود میں آتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’چیف سیکریٹری کو معلوم ہونا چاہیے کہ اُن کے علاقے میں آپریشن کہاں پر ہو رہا ہے، طالبان کہاں پر ہیں اور کن علاقوں میں امن وامان کی صورت حال خراب ہے۔‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان گیارہ افراد میں سے تین افراد کی لاشیں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے اُٹھائی گئیں لیکن چیف سیکریٹری کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگی۔

عدالت نے ان افراد کو صوبہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری کے حوالے کر دیا اور کہا کہ وہ ان افراد کی صحت، کھانے پینے اور سیکورٹی کے ذمہ دار ہوں گے۔

ان افراد میں شامل مظہرالحق نے کمرۂ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں دو ساتھیوں محمد شفیق اور شفیق الرحمن کے ہمراہ چند روز پہلے ہی پاڑا چنار منتقل کیا گیا، اس سے پہلے اُنہیں پشاور میں ہی ایک حراستی مراکز میں رکھا ہوا تھا تاہم وہ نہیں جانتے کہ وہ کس علاقے میں واقع ہے۔

اُنہوں نے الزام عائد کیا کہ خفیہ ایجنسیوں کے افراد کے تشدد کی وجہ سے تین افراد ہلاک ہوئے۔ مظہر الحق کا کہنا تھا کہ ان حراستی مراکز میں انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے اور ایسا تشدد شاید ہی دنیا میں کسی اور جگہ ہوتا ہو۔

اُنہوں نے کہا کہ غیر معیاری خوراک دینے کے علاوہ ان افراد کو دن میں صرف دو مرتبہ باتھ روم میں جانے کی اجازت دی جاتی ہے اور دو منٹ کے بعد باتھ روم سے نکلنے کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تاخیر ہونے کی صورت میں ان افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

خفیہ اداروں کے وکیل راجہ ارشاد نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ اُن سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے اور اُنہیں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جارہا۔ اُنہوں نے کہا کہ گیارہ میں سے چار افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں