ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے مہلت طلب

(فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images
Image caption ہلاکتوں کا واقعہ پاک افغان سرحد پر بادینی کے مقام پر جمعہ کو پیش آیا تھا

بلوچستان میں افغان فورسز کی جانب سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی اور دو پاکستانیوں کی ہلاکت کا معاملہ حل نہیں ہوسکااور افغان فورسز اور ایساف حکام نے انکوائری کے لیے چند دن کی مہلت طلب کی ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق منگل کو چمن میں پاک افغان سرحد پر فرنٹیئر کور بلوچستان، افغان نیشنل آرمی اور ایساف کے اعلیٰ حکام کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اس اجلاس میں فرنٹیئر کور کے حکام نے پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی اور دو پاکستانیوں کی ہلاکت ، ان کے جسموں پر زخموں کے نشانات اور موٹر سائیکل کے ٹائروں کے نشانات پر مبنی تصاویر سمیت دیگر شواہد پیش کیے۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان مرتضی بیگ کے مطابق اجلاس میں ہلاک ہونے والے دو پاکستانیوں کے لواحقین و ورثاء بھی موجود تھے۔

اس موقع پر افغان نیشنل سکیورٹی فورسز نے واقعہ کی مکمل تحقیقات اور مختلف پہلوؤں کاجائزہ لینے کے لیے کچھ روز کی مہلت مانگی جس پر فرنٹیئر کور بلوچستان حکام نے افغان فورسز کو صرف دو روز کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ وہ وضاحت کریں کہ سرحدی حدود کی خلاف ورزی کیوں کی گئی۔

ِخیال رہے کہ ہلاکتوں کا یہ واقعہ پاک افغان سرحد پر بادینی کے مقام پر جمعہ کو اس وقت پیش آیا تھا جب افغان سرحدی فورس کے اہلکار دوگاڑیوں میں ایک کلومیٹر تک پاکستانی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔

افغان فورسز نے پاکستانی حدود میں آتے ہی مقامی سرکردہ قبائلی رہنماء سعداللہ کاکڑ کے گھر پر چھاپہ مارا اور وہاں سے طالبان سے تعلق رکھنے کی بنا پر دو افراد عبداللہ اور سرور خان کو حراست میں لے لیا تھا۔

بعدازاں ان دونوں افراد کوگولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا اور پیر کو ان کی لاشیں بادینی کے مقام پر ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی تھیں۔

اسی بارے میں