اسامہ کے برادرِ نسبتی کا چیف جسٹس کو خط

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption اسامہ بن لادن کی یمنی بیوہ امل، دو سعودی بیوائیں اور بارہ بچے حکومتِ پاکستان کی تحویل میں ہیں

القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی یمنی بیوہ امل الصدہ کے بھائی ذکریا احمد نے اپنی بہن کی پاکستانی قید سے رہائی کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے۔

ذکریا احمد نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے درخواست کی ہے کہ سپریم کورٹ ان کی بہن کی رہائی کے معاملے کو بھی لاپتہ افراد کے مقدمہ کی طرح ترجیحی بنیادوں پر نمٹائے۔

انہوں نے کہا: ’اسامہ بن لادن کے کیس سے ان کے بیواؤں اور بچوں کا کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے انہیں پاکستانی خفیہ ایجنسیز سے رہا کروانے کے لیے چیف جسٹس کا در کھٹکھٹایا ہے۔ ہمیں بہن اور بچوں کی صحت سے متعلق شدید پریشانی لاحق ہے۔‘

ذکریا احمد کے مطابق پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ ’امل کی رہائی میں صرف وزیر داخلہ دحمان ملک کے ایک دستحظ باقی ہونا رہ گئے ہیں تاہم گزشتہ کئی مہینے کی کوششوں کے بعد بھی وہ یہ دستخط حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔‘

گزشتہ برس پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ان کی یمنی بیوہ امل، دو سعودی بیوائیں، اور بارہ بچے حکومتِ پاکستان کی تحویل میں ہیں۔

دو مئی کے واقعات کی تفتیش کرنے والے کمیشن کے مطابق اسامہ کی بیواؤں کے بیانات ریکارڈ کر لیےگئے ہیں اور اب کمیشن کو ان کی ضرورت نہیں ہے۔

دو مہینے قبل بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ذکریا احمد نے بتایا تھا کہ پاکستانی حکام کی مدد سے پانچ مرتبہ وہ اپنی بہن امل کو نامعلوم مقام پر مل چکے ہیں جس کے بعد سے انہیں امل اور بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت سے متعلق شدید تشویش ہے۔

ذکریا احمد نے امل کے حوالے سے بتایا تھا کہ انہوں نے پاکستان میں اپنی قید کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے رہائی تک بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔

پاکستانی حکام کے وعدے پر اپنی بہن اور بچوں کو لینے کے لیےگزشتہ برس نومبر میں پاکستان آنے والے ذکریا احمد کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایک دن کے لیے پاکستان آئے تھے۔

ان کے مطابق پہلے انہیں ہفتے میں ایک مرتبہ اپنی بہن سے ملنے کی اجازت دی جاتی تھی مگر میڈیا میں ان کے بیانات شائع ہونے کے بعد سے وہ بارہا کوشش کے بعد بھی اپنی بہن سے ملاقات کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔

ذکریا احمد کا کہنا ہے کہ’بہن سے آخری وقت ملاقات ہوئے ایک مہینے سے بھی زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ میڈیا پر میرا انٹرویو سامنے آنے کے بعد سے لے کر اب تک میں بہن سے نہیں مل سکا۔ جو لوگ ملواتے تھے ان کے فون نمبر پر کئی مرتبہ کال کی مگر کوئی جواب نہیں آتا۔‘

ذکریا احمد کا کہنا ہے کہ امل اور ان کے بچوں کی رہائی اور ان سے ملاقات کروانے کے لیے بھی پاکستان میں قائم یمنی سفارخانہ اپنی بھرپور کوشش کر رہا ہے ۔

اسی بارے میں