پشاور سے گرفتار امریکی شہری رہا

Image caption پشاور میں کسی امریکی شہری کو حراست میں لینے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے حراست میں لیے جانے والے امریکی شہری کو پولیس نے پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا ہے۔

منگل کی صبح پولیس نے ایک امریکی شہری کو پشاور ہوائی اڈے سے حراست میں لیا تھا جنہیں بعد میں غربی تھانہ منتقل کیا گیا۔

پشاور میں ایک پولیس اہلکار ذوالفقار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ منگل کو پشاور ائیرپورٹ سے اسلام آباد جانے والے ایک غیر مُلکی امریکی شہری کو اس وقت حراست میں لے کر تھانہ منتقل کیا گیا جب ان کے بیگ سے نو ایم ایم کی سترہ گولیاں برآمد ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی شہری نے خود کو امریکی قونصل خانے کا اہلکار بتایا۔ یہ شخص پی آئی اے کی پرواز پی کے اٹھائیس کے ذریعے پشاور سے اسلام آباد جانے والا تھا۔

اہلکار کے مطابق امریکی شہری کو ائیر پورٹ سے پولیس تھانے منتقل کیا گیا جہاں پولیس اور پاکستان کے خُفیہ اداروں کے اہلکار نے ان سے تفتیش کی۔

یادرہے کہ پشاور میں کسی امریکی شہری کو حراست میں لینے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی بار امریکی شہریوں کو حراست میں لینے کے واقعات پیش آئیں ہیں لیکن معمول تفتیش کے بعد انہیں رہا کیا جاتا ہے۔

ادھر پشاور میں ہی امریکی قونصل پر تعینات ایف سی اہلکار اتفاقی گولی چلنے سے ہلاک ہوگیا ہے۔

پشاور میں پولیس سربراہ طاہر ایوب نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو پشاور میں امریکی قونصل خانے پر تعنیات ایف سی اہلکار محمد صدیق اس وقت اتفاقی گولی چلنے سے ہلاک ہوگیا جب وہ قونصل خانے کے سامنے پہرہ دے رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ محمد صدیق کی عمر چالیس سال تھی اور وہ اٹھارہ سال سے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں خدمت انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے ان اطلاعات کی ترید کی کہ وہ ذہنی مریض تھے اور انہوں نے خودکُشی کی ہے۔

البتہ بعض پولیس ذرئع کا کہنا ہے کہ محمد صدیق گزشتہ ایک عرصے سے بعض نامعلوم وجوہات کی وجہ سے بُہت پریشان تھے اور انہوں نے آج صُبح سرکاری رائفل پر اپنے آپ پر فائرنگ کرکے زندگی کا خاتمہ کردیا۔

محمد صدیق کا تعلق چترال سے تھا اور پولیس کے مطابق ان کی لاش کو ان کے آبائی گاؤں راونہ کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں