پنجاب کےخلاف شازشیں ہو رہی ہیں: وزیر اعلیٰ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نےکہا ہے کہ پنجاب کے خلاف سازشیں کرنے والے ’دھیان سے باتیں کریں اور ان معاملوں کو اتنا نہ اچھالیں کہ خون خرابہ ہو جائے گا۔‘

منگل کو لاہور میں ییلو کیپ ٹیکسی سکیم کی قرعہ اندازی کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے شہباز شریف نے کہا ’ہم پاکستان کی سالمیت اور عظمت کے لیے ہرقربانی دینے کو تیار ہیں لیکن ہمیں یہ منظور نہیں کہ پنجاب کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جائے اور ہم خاموش رہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد جو محکمے صوبوں کو دینے چاہیے تھے وہ باقی صوبوں کو مل چکے ہیں لیکن پنجاب کو چند ایک کے سوا ابھی تک کئی اہم محکمے نہیں دیئے گئے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے آئینی کمیٹی کے مسلم لیگی رکن اسحاق ڈار سے کہا ہے کہ وہ بیسویں ترمیم اس وقت تک منظور نہیں کریں گے جب تک پنجاب کو اس کا حق نہیں مل جاتا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ’یہ حق ہم ان سے خود لے لیں گے یا سپریم کورٹ جا کر اپنا حق لے لیں۔‘

شہباز شریف نے کہا کہ ڈینگی وائرس کے موقع لاہور کے ایک کروڑ عوام کے خلاف ایک بڑی سازش کی گی ان کے بقول انہیں یہ سوچ کر ہی بہت دکھ ہوا کہ کوئی پاکستانی ایسی سازش کا سوچ بھی سکتا ہے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب اس سے پہلے بھی ایک تقریر میں ایسی سازش کا ذکر کرچکے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جب لاہور کے شہری ڈینگی سے مر رہے تھے تو اسلام آباد میں بیٹھی ایک اعلیٰ ترین شخصیت نے سری لنکا سے آنے والے طبی ماہرین کو واپس چلے جانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

شہباز شریف یہ پیشکش بھی کرچکے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کی بند کمرے سماعت کے دوران اس شخصیت کا نام بتانے کو بھی تیار ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے منگل کے خطاب میں ایک بار پھر اس مبینہ سازش کا ذکر کیا اور کہا کہ ’جب لاہور میں دنیا کی بدترین وبا چل رہی ہو اور اس سے نمٹنے کے لیے پوری حکومت اور انتظامی مشینری دن رات کام کر رہی ہو اور کوئی اسلام آباد میں بیٹھ کر لوگوں کو موت کی نیند سلانے کی سازش کر رہا ہو اور ڈاکٹروں کو کہہ رہا ہو یہاں سے چلے جاؤ۔‘

وزیر اعلیٰ کہ بجلی اور گیس کا معاملہ سب کے علم میں ہے وہ تو ان سازشوں کا ذکر کر رہے ہیں جس کا عام لوگوں کو علم نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ بجلی کے بارے میں میں کوئی بات کریں گے تو پھر بہت شور اٹھےگا کہ کس طرح پنجاب کے خلاف سازش کی گی؟ کس طرح پنجاب سے جو بجلی پیدا ہوتی ہے اس کو اچک لیا گیا؟